صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 713 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 713

صحيح البخاري - جلد ٣ تشریح: ۷۱۳ ٣٣- كتاب الاعتكاف هَلْ يَدْرَرُ الْمُعْتَكِفُ عَنْ نَفْسِهِ : صوم و صلوۃ اور اعمال صالح بجالانے والے بعض اوقات تعجب کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ پارسا اور تقدس مآب ہیں۔یہاں تک کہ اپنے تئیں بے عیب اور ہر سوء ظن سے اپنے آپ کو پاک سمجھنے لگتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مذکورہ بالا واقعہ میں ملاحظہ ہو۔بعض زاہدوں کا احساس غلو آمیز شکل اختیار کر لیتا ہے اور دوسروں سے چاہتا ہے کہ اُن سے متعلق کسی قسم کی سوء ظنی سے کام نہ لیں اور اُن میں سے بعض تو دوسروں کو اتنا حقیر خیال کرتے ہیں کہ اُن سے مصافحہ کرنا بھی خلاف شان سمجھتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ قابل رشک ہے کہ دوسروں کو تقویٰ کی حدود پر قائم اور اجتلاء سے محفوظ رکھنے کا اس قدر اہتمام تھا کہ دُور کے احتمال کا سد باب بھی آپ نے ملحوظ رکھا اور اپنی شان تقدس کا مطلق خیال نہیں فرمایا اور دونوں انصاریوں کو ٹھہرا کر بتایا کہ یہ صفیہ میری بیوی ہیں جنہیں چھوڑنے جارہا ہوں۔وہ انصاری یقینا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کی نسبت سوائے حسن ظن کے اور کوئی خیال نہیں کر سکتے تھے مگر شیطانی وساوس کی طبعی رو کے پیش نظر تقومی کے تقاضے سے آپ نے اپنا فرض سمجھا کہ اس کا پورا پورا سد باب ہو جائے۔تقویٰ کے معنے ہیں: انتہائی احتیاط اور شیطان جو وساوس کے ذریعہ سے اپنے طبعی فعل کا اظہار کرتا ہے، اس کے بارے میں قرآن مجید فرماتا ہے: يُبَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ اَبَوَيْكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ يَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْاتِهِمَا إِنَّهُ يَرْكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ۔(الاعراف: ۲۸) اے آدم کے بیٹو! شیطان تم کو بہر کا نہ دے جس طرح اُس نے تمہارے ماں باپ کو بہ کا کر جنت سے نکال دیا تھا۔اُن دونوں سے اُن کا لباس ( تقویٰ) اُس نے اُتار دیا تھا تا کہ اُن کا ننگ اُن پر ظاہر کر دے۔وہ اور اُس کے متبع تم کو ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم اُن کو نہیں دیکھتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لئے بطور شاہد اور نگران ہیں۔اس لئے آپ کی نظر سے ایک خفیف سا مقام لغزش اور اصلاح اوجھل نہیں ہونے پایا اور قرآن مجید کی یہ آیت ہر حال میں آپ کے مد نظر رہی۔ہم سب کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال ایک کھلی کتاب ہیں۔اس تعلق میں روایت نمبر ۲۰۳۳ بھی دیکھئے۔جس میں یہ ذکر ہے کہ آپ کی بعض بیویوں نے ریس میں اعتکاف کی غرض سے مسجد کے صحن میں چھولداریاں نصب کرائیں اور اس پر بھی آپ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پاک نمونہ میں آجکل کے پیروں اور گدی نشینوں کے لئے ایک درس ہدایت ہے جو اس قدر دلیر ہیں کہ باوجود اس کے اپنے مریدوں سے وہ کچھ تو قعات رکھتے ہیں جو قطعا خلاف تقوی ہیں۔مذکورہ بالا واقعہ سے امام ابن حجر نے بھی بعض اخلاق فاضلہ کا استنباط کیا ہے کہ علماء اور ائمہ دین کا فرض ہے کہ وہ مختلاط رہیں اور شبہات پیدا کرنے والے امور سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں کیونکہ اس سے افادہ اور استفادہ کا سلسلہ قائم رہتا ہے۔(فتح الباری جز ۴۰ صفحہ ۳۵۶،۳۵۵ شرح روایت ۲۰۳۵) بدظنی معاشرے کے شیرازے کو تباہ کر دیتی ہے۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے باب کا عنوان استفتاء کی صورت میں قائم کیا ہے۔اس سوال کے جواب میں شارحین ساکت ہیں۔علاوہ ازیں معتکف ہی کی بدگمانی دُور کرنے میں کیا خصوصیت ہے؟ ہر نمازی روزہ دار اور عمل صالح بجالانے