صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 703 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 703

صحيح البخاري - جلد ٣ ۳۳- كتاب الاعتكاف بھی ذکر الہی دعا وغیرہ کے لئے خلوت نشین ہو سکتا ہے۔بعض کے نزدیک مدت اعتکاف غیر معین ہے۔جتنا عرصہ کوئی اعتکاف میں بیٹھ سکے وہی اس کے اعتکاف کی حد ہے۔(فتح الباری شرح بابا جز به صفحه ۳۴۵ ، شرح بابے جز ۴۰ صفحه ۳۴۹) روایت نمبر ۲۰۲۷ میں بیان ہو چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ درمیانی عشرہ رمضان میں بھی معتکف ہوئے ہیں اور پھر ایک رؤیا کی بناء پر آخری عشرہ میں بھی اعتکاف جاری رکھا۔اعتکاف کے لئے عام مسنون طریق رمضان کے آخری دس دن ہی ہیں۔کمی وبیشی اپنی اپنی طاقت اور حالات پر منحصر ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام طور پر چالیس دنوں کے لئے معتکف ہوئے۔(البقرۃ: ۵۲) حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے بھی چالیس دن کا عرصہ ہی انا جیل میں مذکور ہے۔(مرقس باب ۱ آیت ۱۳) (لوقا باب ۴ آیت ۱) مسلمانوں میں چلہ کشی کا دستور جو پایا جاتا ہے۔اُس کا پس منظر بھی انبیاء علیہم السلام کی یہی سنت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی ۱۸۸۶ء میں چالیس دن کے لئے بمقام ہوشیار پور گوشہ نشین ہوئے تھے اور آپ پر انہی دنوں میں عظیم الشان جلی ہوئی۔جس میں آپ کو ایک نشانِ رحمت عطا کیا گیا۔واقعات اس تجلی کے عظیم الشان ہونے کی تصدیق کر رہے ہیں۔ان وجوہ سے اعتکاف کی برکات ظاہر وباہر ہیں۔اس باب کے عنوان میں لفظ لیلا نمایاں کیا گیا ہے۔اس سے فقہاء کے ایک اختلاف کی طرف اشارہ کیا ہے۔انہوں نے سوال اُٹھایا ہے کہ مجرد اعتکاف کے لئے روزہ رکھنا ضروری ہے یا نہیں؟ کیونکہ اعتکاف رمضان کے علاوہ اور دنوں میں بھی بیٹھا جا سکتا ہے۔جن فقہاء کی رائے یہ ہے کہ اعتکاف کے لئے روزہ رکھنا ضروری ہے اور یہ اعتکاف دن رات میں ہو۔انہوں نے حضرت عمرؓ کے واقعہ سے استدلال کیا ہے۔انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ میں نے ایام جاہلیت میں ایک رات اعتکاف کی نذر مانی تھی تو آپ نے اُن سے فرمایا تھا کہ اعتکاف کے ساتھ روزہ بھی رکھیں جو دن کو رکھا جاتا ہے۔یہ روایت نسائی اور ابوداؤد سے مروی ہے مگر کمزور ہے۔(فتح الباری جز ۴۰ صفحه ۳۴۹) (عمدۃ القاری جزءا صفحه ۱۴۶) ید حضرت عمر کی نذروالی روایت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی کئی سندوں سے نقل کی ہے۔ہر سند کی روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ صرف یہی ہیں کہ آپ اپنی نذر پوری کریں روزے کا ذکر نہیں۔اس تعلق میں روایت نمبر ۲۰۴۳ بھی دیکھئے۔اس روایت سے ظاہر ہے کہ حضرت عمر نے صرف ایک رات کے لئے بیت الحرام میں اعتکاف کی نذر مانی تھی۔بعض فقہاء نے اس واقعہ سے استدلال کیا ہے کہ اعتکاف کے لئے روزہ شرط نہیں۔اس تعلق میں باب ۱۶،۱۵ دیکھئے جہاں امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی یہی سوال اُٹھایا ہے۔ابوداؤد، کتاب الصوم، باب المعتكف يعود المريض)