صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 702
صحيح البخاري - جلد ٣ ٣٣- كتاب الاعتكاف اللهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله اسود سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُنِي وَأَنَا حَائِضٌ۔روایت کی کہ وہ کہتی تھیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ہم کنار ہوتے ، اس حالت میں کہ میں حائضہ ہوتی۔اطرافه ،۲۹۵، ۲۹۶، ۳۰۱ ،۲۰۲۸، ۲۰۲۹، ٢۰۳۱، ٢٠٤٦، ٥٩٢٥۔۲۰۳۱ : وَكَانَ يُخْرِجُ رَأْسَهُ مِنَ ۲۰۳۱ اور جب آپ معتکف ہوتے تو مسجد سے الْمَسْجِدِ وَهُوَ مُعْتَكِفْ فَأَغْسِلُهُ وَأَنَا اپنا سر نکالتے ہیں اُسے دھوتی اور میں حائضہ ہوتی۔حَائِضٌ۔اطراف افة: ٢٩٥، ۲۹٦، ۳۰۱، ۲۰۲۸، ۲۰۲۹، ۲۰۳۰، ٢٠٤٦، ٥٩٢٥۔تشریح : غَسْلُ الْمُعْتَكِفِ : نہانے دھونے کی غرض سے معتکف مسجد سے باہر جاسکتا ہے۔جس کی تائید مندرجہ روایت سے ہوتی ہے۔بَابه : الِاعْتِكَافُ لَيْلًا ایک رات کے لئے اعتکاف کرنا ۲۰۳۲: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنِي :۲۰۳۲ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحی بن سعید يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ أَخْبَرَنِي (قطان) نے مجھے بتایا۔انہوں نے عبید اللہ (عمری) نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا سے روایت کی۔(انہوں نے کہا) کہ نافع نے أَنَّ عُمَرَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے وَسَلَّمَ قَالَ كُنْتُ نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مجھے خبر دی کہ حضرت عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَام پوچھا۔انہوں نے کہا کہ جاہلیت میں میں نے نذر مانی تھی کہ مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف کروں گا۔قَالَ أَوْفِ بِنَذْرِكَ۔آپ نے فرمایا: اپنی نذر پوری کریں۔اطرافة ۲۰٤٢، ۲۰۱۳، ۳۱٤٤، ٦٦٩٧٤۳۲۰ تشریح : الاعْتِكَافُ لَيْلًا : اعتکاف کی مدت کےبارے میں فقہاء نے سوال اٹھایا ہے۔ان میں سے بعض نے کم سے کم مدت کی تعیین ایک دن تجویز کی ہے اور بعض نے اس سے بھی کم۔یعنی انسان چند گھنٹے کے لئے