صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 704
صحيح البخاري - جلد ٣ ۷۰۴ ٣٣- كتاب الاعتكاف بَابِ ٦ : اعْتِكَافُ النِّسَاءِ عورتوں کا اعتکاف کرنا ۲۰۳۳ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۲۰۳۳ : ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ ہمیں بتایا کہ یحی بن سعید انصاری) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ انہوں نے عمرہ سے اور عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ سے روایت کی حضرت عائشہ نے کہا: نبی ﷺ رمضان کے فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھا کرتے تھے اور میں آپ فَكُنْتُ أَضْرِبُ لَهُ خِبَاءً فَيُصَلِّی کیلئے ایک چھولداری لگا دیتی۔آپ صبح کی نماز پڑھ کر اس الصُّبْحَ ثُمَّ يَدْخُلُهُ فَاسْتَأْذَنَتْ حَفْصَةُ میں داخل ہو جاتے۔ایک دفعہ حضرت حفصہ نے حضرت عَائِشَةَ أَنْ تَضْرِبَ خِبَاءً فَأَذِنَتْ لَهَا عائشہ سے ایک چھولداری لگانے کی اجازت لی تو انہوں نے فَضَرَبَتْ حِبَاءً فَلَمَّا رَأَتْهُ زَيْنَبُ بِنْتُ اُن کو اجازت دے دی۔چنانچہ حضرت حفصہ نے چھولداری جَحْشٍ ضَرَبَتْ حِبَاءً آخَرَ فَلَمَّا لگالی۔جب حضرت زینب بنت جحش نے دیکھا تو انہوں نے أَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بھی ایک اور چھولداری لگالی۔جب نبی میں نے صبح اٹھے اور وہ چھولداریاں دیکھیں تو آپ نے فرمایا: یہ کیا ہے؟ آپ کو بتایا گیا ( کہ آپ کی ازواج نے یہ خیمے لگائے ہیں ) تو نبی نے فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ فعل انہوں نے نیکی کی غرض سے کیا ہے؟ آپ نے اس مہینے میں اعتکاف ہی چھوڑ دیا۔پھر شوال کے دس دنوں میں آپ معتکف ہوئے۔رَأَى الْأَخْبِيَةَ فَقَالَ مَا هَذَا فَأُخْبِرَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبِرَّ تُرَوْنَ بِهِنَّ فَتَرَكَ الإِعْتِكَافَ ذَلِكَ الشَّهْرَ ثُمَّ اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ۔اطرافه ٢٠٣٤، ٢٠٤١، ٢٠٤٥ تشریح : اِعْتِكَافُ النِّسَاءِ : امام شافعی نے عورتوں کے لئے مسجد میں اعتکاف کرنا مکروہ جانا ہے کیونکہ وہاں مردوں کی آمد ورفت ہوتی ہے۔اس کا استدلال روایت نمبر ۳۳ ۲۰ سے ہے۔البتہ انہوں نے فتویٰ دیا ہے کہ عورت اپنے گھر کی مسجد میں مختلف ہو سکتی ہے۔امام ابو حنیفہ بھی امام شافعی کی رائے سے متفق ہیں۔اس بارے میں امام ابو حنیفہ اور امام احمد بن حنبل کا یہ فتویٰ بھی ہے کہ عورت اپنے خاوند کے ساتھ مسجد میں اعتکاف بیٹھ سکتی ہے۔ابن عبدالبر کا