صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 704 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 704

صحيح البخاری جلد ۳ ۳۳- كتاب الاعتكاف بَاب ٦ : اعْتِكَافُ النِّسَاءِ عورتوں کا اعتکاف کرنا ۲۰۳۳ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۲۰۳۳ : ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ حماد بن زید نے حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ ہمیں بتایا کہ کچی ( بن سعید انصاری ) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ انہوں نے عمرہ سے اور عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا الله النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ سے روایت کی حضرت عائشہ نے کہا: نبی ﷺ رمضان کے فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھا کرتے تھے اور میں آپ فَكُنْتُ أَضْرِبُ لَهُ خِبَاءً فَيُصَلِّي کیلئے ایک چھولداری لگا دیتی۔ آپ صبح کی نماز پڑھ کر اُس الصُّبْحَ ثُمَّ يَدْخُلُهُ فَاسْتَأْذَنَتْ حَفْصَةُ میں داخل ہو جاتے ۔ ایک دفعہ حضرت حفصہ حفصہ نے حضرت رقم عَائِشَةَ أَنْ تَضْرِبَ حِبَاءً فَأَذِنَتْ لَهَا عائشہ سے ایک چھولداری لگانے کی اجازت لی تو انہوں نے فَضَرَبَتْ حِبَاءً فَلَمَّا رَأَتْهُ زَيْنَبُ بِنْتُ اُن کو اجازت دے دی۔ چنانچہ حضرت حفصہ نے چھولداری رق صلى الله جَحْشٍ ضَرَبَتْ خِبَاءً آخَرَ فَلَمَّا لگالیں۔ جب حضرت زینب بنت جس نے دیکھا تو انہوں نے اری لگا لی ۔ جب نبی علی صبح اُٹھے اور أَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بھی ایک اور چھولداری الگالیا۔ جب ؟ رَأَى الْأَخْبَيَةَ فَقَالَ مَا هَذَا فَأَخْبِرَ فَقَالَ وہ چھولداریاں دیکھیں تو آپ نے فرمایا یہ کیا ہے؟ آپ کو النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الي بتایا گیا کہ آپ کی ازواج نے یہ خیمے لگائے ہیں تو نبی نے فرمایا: کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ فعل انہوں نے نیکی کی تُرَوْنَ بِهِنَّ فَتَرَكَ الإِعْتِكَافَ ذَلِكَ غرض سے کیا ہے؟ آپ نے اس مہینے میں اعتکاف ہی الشَّهْرَ ثُمَّ اعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ۔ اطرافه ٢٠٣٤، ٢٠٤١، ٢٠٤٥۔ چھوڑ دیا۔ پھر شوال کے دس دنوں میں آپ مختلف ہوئے۔ تشریح : اعْتِكَافُ النِّسَاءِ: امام شافعی نے عورتوں کے لئے مسجد میں اعتکا کر نا کر وہ جنا ہے کیونکہ وہاں مردوں کی آمد ورفت ہوتی ہے۔ اس کا استدلال روایت نمبر ۲۰۳۳ سے ہے۔ البتہ انہوں نے فتوی دیا ہے کہ عورت اپنے گھر کی مسجد میں مختلف ہو سکتی ہے۔ امام ہے۔ امام ابو حنیفہ بھی امام شافعی کی رائے سے متفق ہیں۔ اس بارے میں امام ابو حنیفہ اور امام احمد بن حنبل کا یہ فتوی بھی ہے کہ عورت اپنے خاوند کے ساتھ مسجد میں اعتکاف بیٹھ سکتی ہے۔ ابن عبدالبر کا