صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 701
حيح البخاري - جلد ٣ 2 +1 ٣٣- كتاب الاعتكاف اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت وَسَلَّمَ قَالَتْ وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ علیہ وسلم اپنا سر { میری طرف ہم کر دیتے جبکہ آپ { عَلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ مسجد میں ہوتے اور میں آپ کے کنگھی کرتی اور جب فَأَرَجَلُهُ وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا آپ معتکف ہوتے تو بغیر حاجت گھر میں نہ آتے۔لِحَاجَةٍ إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا۔اطرافه ،۲۹۵، ۲۹۶، ۳۰۱، ۲۰۲۸، ۲۰۳۰، ٢٠۳۱، ٢٠٤٦، ٥٩٢٥۔تشریح: الْمُعْتَكِفُ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ : ارشادِ باری تعالى وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ (البقرة: ۱۸۸) کی وضاحت کی غرض سے یہ باب قائم کیا گیا ہے کہ اس سے مطلق ہم کنار ہونے کی ممانعت نہیں۔بلکہ ازدواجی تعلق کی ممانعت ہے۔اعتکاف مسجد میں ضروری ہے۔اگر یہ ضروری نہ ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سر میں کنگھی وغیرہ کرنے کی ضرورت کے وقت مسجد میں ہی رہتے ہوئے سر باہر نکالنے کی تکلیف نہ فرماتے کیونکہ یہ تکلف ہے۔باب ۲) اس سے یہ بھی ظاہر ہے کہ مختلف مسجد سے بحالت اعتکاف اسی وقت باہر جا سکتا ہے جب سخت ضرورت ہو۔چنانچہ اس باب ( نمبر ۳) میں تصریح ہے کہ قضاء حاجت کی ضرورت کے سوا آپ اپنے گھر نہ جاتے۔حضرت علی ، امام نخعی اور امام حسن بصری سے مروی ہے کہ معتکف سوائے طبعی حاجت کے باہر نہ نکلے۔اگر بغرض جنازہ، عیادت اور جمعہ کے مسجد سے نکلے گا تو اس کا اعتکاف باطل ہو جائے گا۔(فتح الباری جز پہ صفحہ ۳۴۷) در حقیقت جامع مسجد میں اعتکاف اسی لئے افضل سمجھا گیا ہے کہ مختلف کو نماز جمعہ میں شامل ہونے کا موقع ملتا رہے۔اگر کسی وجہ سے معتلف جامع مسجد میں اعتکاف نہیں بیٹھ سکا اور محلہ کی مسجد میں اعتکاف بیٹھا ہے تو جمعہ کی نماز چونکہ فرض ہے اس لئے جمعہ کی نماز میں شامل ہوسکتا ہے۔لیکن ضروری ہے کہ نماز جمعہ پڑھ کر فورا واپس معتکف میں پہنچ جائے۔بَابِ ٤ : غَسْلُ الْمُعْتَكِفِ معتکف کا نہانا دھونا ۲۰۳۰ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۲۰۳۰ محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے إِبْرَاهِيْمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ منصور سے منصور نے ابراہیم (شخصی) سے، ابراہیم نے کا لفظ ”علی“ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے (فتح الباری جزءم حاشیہ صفحہ ۳۴۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔