صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 692 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 692

صحيح البخاری جلد۳ ۳۲ - كتاب فضل ليلة عَاصِمٌ عَنْ أَبِي مِجْلَزِ وَعِكْرِمَةَ قَالَا سليمان) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے ابومجلز قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ (لاحق بن حمید ) اور عکرمہ سے روایت کی۔اُن دونوں رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ نے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي تِسْعِ يَمْضِيْنَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ آخری دہا کے سَبْعٍ يَبْقَيْنَ تَابَعَهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ میں ہے، جب نو را تیں گزر جائیں یا سات راتیں أَوْ فِي باقی رہیں۔عبدالوہاب نے ایوب اور خالد سے نقل کیا عَنْ أَيُّوبَ وَعَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ ہے کہ عکرمہ سے مروی ہے۔انہوں نے حضرت ابن عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ الْتَمِسُوا فِي أَرْبَعِ عا سے روایت کی کہ چوبیسویں رات کو تلاش کرو وَعِشْرِينَ يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْر اطرافه: ۲۰۲۱ یعنی لیلة القدر تشریح : تَحَرَىٰ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فِي الْوِتْرِ مِنَ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ : باب کا عنوان ہے رمضان کی آخری سات راتوں میں لیلتہ القدر کی گھڑی ڈھونڈ نا اور باب کا عنوان آخری عشرے کی طاق رات میں لیلۃ القدر ڈھونڈنا ہے۔یہ دونوں عنوان دو قسم کا اختلاف حل کرنے کی غرض سے قائم کئے گئے ہیں۔بعض روایتوں کی بنا پر ایک اختلاف یہ ہے کہ لیلۃ القدر آخری ہفتہ کی راتوں میں سے کوئی رات ہے۔جس میں استجابت دعا کی گھڑی ہے اور بعض روایتوں میں بجائے ہفتہ کے آخری عشرہ مذکور ہے۔باب کے ماتحت دو مستند روایتیں درج ہیں۔ایک حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اور دوسری حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی جو امام مسلم نے خفیف سے لفظی اختلاف کے ساتھ نقل کی ہے۔(مسلم، کتاب الصيام، باب فضل ليلة القدر والحث على طلبها) پہلی روایت (نمبر ۲۰۱۵) میں جو سات راتوں کا ذکر آتا ہے، وہ در حقیقت بعض صحابہ کی خوابوں پر مبنی ہے اور دوسری ( روایت نمبر ۲۰۱۶ ) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رویا کا ذکر ہے ، جس کی تصدیق واقعہ سے ہو گئی۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی شہادت مقدم ہے، آپ کے اس قیاس پر جو بعض صحابہ کی خوا ہیں سن کر آپ نے فرمایا تھا۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اختلاف کا حل اپنے طریق تقدیم و تاخیر کے مطابق پیش کیا ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشاہدہ اور آپ کے آخری ارشاد کو امام موصوف کے نزدیک ترجیح ہے۔دوسرا اختلاف آخری عشرے کی معین رات کے بارے میں ہے جو باب نمبر ۳ میں حل کیا گیا ہے کہ وہ طاق رات ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو رویا ہوئی تھی ، وہ اکیسویں رات کو ہوئی تھی اور اس کے علاوہ امام موصوف نے یہ اشارہ بھی کیا ہے کہ اس واقعہ سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اکیسویں تاریخ ہی لیلۃ القدر کے لئے مقرر ہو چکی ہے اور اس کے خلاف یہ دلیل دی ہے کہ اگر یہی ایک مقررہ رات ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہ فرماتے کہ تَحَرَّوُا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِى الْعَشْرِ الْأَوَاخِرَ۔یعنی آخری عشرے میں لیلۃ القدر کی جستجو کرو۔