صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 693 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 693

صحيح البخاری جلد۳ ۶۹۳ ۳۲- کتاب فضل ليلة القدر باب ۳ کے تحت چھ روائتیں درج کی گئی ہیں۔اُن میں سے تین حضرت عائشہ سے ہیں اور ایک حضرت ابوسعید خدری سے اور دو حضرت ابن عباس سے۔نیز عنوانِ باب میں حضرت عبادہ بن صامت کی روایت کی طرف اشارہ کیا ہے جسے امام بخاری سند کے ساتھ اگلے باب ( نمبر۴) میں لائے ہیں۔(دیکھئے روایت نمبر ۲۰۲۳) یہ سب جہاں آخری عشرے سے متعلق متفق ہیں، وہاں اس بارہ میں بھی متفق ہیں کہ طاق راتوں میں وہ تلاش کی جائے۔الْتَمِسُوا فِی اَرْبَعِ وَعِشْرِينَ : روایت نمبر ۲۰۲۲ کے آخر میں عکرمہ کی ایک روایت کا حوالہ بھی بسند ایوب اور خالد دیا گیا ہے جو بظاہر طاق والی روایتوں کے خلاف ہے۔مگر یہ اختلاف صرف حسابی نوعیت کا ہے۔مہینہ میں دن کے حساب سے شمار کیا جائے تو طاق راتیں اکیس ہمیں چھپیں، ستائیں اور انتیس ہوں گی اور اگر السَّبْعِ الأَوَاخِرِ یعنی سات دن شمار ہوں اور آخری تاریخ سے حساب کیا جائے تو تمیں سے چوبیس تک سات دن ہوتے ہیں۔( فتح الباری جز به صفحه ۳۳۳) یہاں یہ سوال اُٹھایا گیا ہے کہ حضرت ابن عباس کی روایت کا حوالہ عبد الوہاب راوی کی سند سے کیوں دیا گیا ہے۔جبکہ مسانید کے مصنفین نے موقوف ہونے کی وجہ سے یہ روایت نظر انداز کر دی ہے اور امام احمد بن حنبل وغیرہ نے حضرت ابن عباس کی یہ روایت بسند عکرمہ موصولاً نقل کی ہے اور اُس میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ وہ سوئے ہوئے تھے کہ اتنے میں کسی نے اُن سے کہا کہ آج رات لیلۃ القدر ہے تو وہ کھڑے ہو گئے اور غنودگی کی حالت میں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمے کی رہی سے چمٹ گئے اور کیا دیکھا کہ آپ نماز پڑھ رہے ہیں۔وہ رات چو بیسویں تھی۔(فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۳۳۳) شارحین نے اس کی تاویل یہ کی ہے کہ چوبیسیوں رات اس صورت میں ہوگی، جب سات دن مد نظر رکھ کر آخر سے شمار کیا جائے۔اس تکلف کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ خواب کا نظارہ ہے۔البتہ اس سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ عشرہ کی طاق رات کے علاوہ بھی لیلۃ القدر میسر آسکتی ہے۔چونکہ قمری مہینے کا دور تبدیل ہوتا رہتا ہے۔اس لئے سال کے مختلف ایام لیلۃ القدر کے مصداق ہو سکتے ہیں۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور صلحائے امت کا یہ قول مروی ہے کہ لیلۃ القدر سال بھر میں کسی رات کو بھی ظاہر ہو سکتی ہے۔(فتح الباری جز پہ صفحہ ۳۳۴) اس وقت بعض پر لیلتہ القدر کی مبارک گھڑی اکیسویں تاریخ کو بارش کی علامت کے ساتھ ظاہر ہوئی۔جہاں تک مستند روایات کا تعلق ہے۔اس بارے میں نہ کوئی شک و شبہ ہے نہ اختلاف کہ رمضان کے آخری عشرے میں طاق رات کو لیلۃ القدر کے ہونے پر سب کو اتفاق ہے اور ساری امت کو تاکید کی گئی ہے کہ ان دنوں میں پوری کوشش کریں کہ لیلتہ القدر والی گھڑی اُن کو نصیب ہو۔یعنی وہ گھڑی جس کا ذکر سورۃ القدر میں ہوا ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر بتائی گئی ہے۔یہ مدت ۸۳ سال سے کچھ اوپر ہوتی ہے اور یہ گھڑی جس کا تعلق ساری اُمت سے ہے یقینا زمانہ تجد ید والی موعود گھڑی ہے۔جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلْ مِدَةٍ سَنَةٍ مَّنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا۔(ابو داؤد، کتاب الملاحم، باب ما يذكر في قرن الماة) یہ آخری حصہ صدی رسالت مآب ماہ کی علمی بعثت کا وہ زمانہ ہے جس میں روح القدس کا نزول اُمت محمدیہ کے کسی ایک فرد پر ہو کر تجدید و اصلاح کا نیاد دور شروع ہونا تھا اور ملکی تحریکات سے خوابیدہ قلوب میں بیداری پیدا ہو کر ظلمت کے بعد طلوع فجر سے اسلام کا سورج