صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 673 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 673

صحيح البخاری جلد ۳ ۶۷۳ ٣٠ - كتاب الصوم ایام التشریق کی وجہ تسمیہ میں دو اقوال ہیں: پہلا یہ کہ تشریق کے معنی ہیں گوشت دھوپ میں خشک کرنا۔ عرب قدیم سے ان دنوں قربانی کا گوشت خشک کر کے محفوظ کر لیا کرتے تھے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ تشریق شروق سے مشتق ہے۔ جس کے معنے ہیں سورج کا نکلنا۔ عید کی نماز سورج نکلنے پر پڑھی جاتی ہے۔ اس لئے قربانی کے دنوں کو ایام تشریق کہتے ہیں ۔ ( فتح الباری جز ۴ صفحہ ۳۰۷) زمانہ جاہلیت میں عرب مزدلفہ سے منیٰ کی طرف اُس وقت تک کوچ نہیں کرتے تھے جب تک کہ سورج پہاڑ کی چوٹیوں پر نہ چمکتا ۔ ( دیکھئے کتاب الحج تشریح باب ۱۰۰ اروایت نمبر ۱۲۸۴) ایام حج میں اعتکاف بھی کیا جاتا اور روزہ بھی رکھا جاتا تھا۔ اسلام نے عید کے دن روزہ رکھنا منع کر دیا۔ ان دنوں میں روزہ رکھنے کے بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ ایک فریق نے قطعی طور پر ممنوع قرار دیا ہے یہاں تک کہ اُس تمتع یا حج کرنے والے کو بھی جائز نہیں جس کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو۔ امام شافعی کا آخری فتوی بھی یہی ہے اور اسی پر شوافع کا عمل ہے۔ حضرت علیؓ اور عطاء بن ابی رباح نے بھی یہی فتویٰ دیا ہے۔ دوسرے فریق نے ان دنوں روزہ رکھنا جائز سمجھا ہے، قربانی میسر ہو یا نہ ہو۔ تیسر افتوی حضرت عائشہ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا ہے جو امام مالک وغیرہ نے اختیار کیا ہے کہ تمتع کرنے والا قربانی کی طاقت نہ رکھے۔ اس کے لئے دس روزے رکھنے کا ارشاد ہے۔ تین بموقع حج اور سات اپنے وطن میں جا کر ۔ یہ تین روزے ایام التشریق میں ان کے نزدیک رکھے جا سکتے ہیں۔ فقہاء کے مذکورہ بالا اختیار کے لئے مفصل دیکھیں: فتح الباری جز ۴ صفحه ۳۰۷، ۳۰۸ - عمدۃ القاری جزء ۱ صفحه ۱۱۴ ۱۱۵ ۔ امام بخاری کارجحان حضرت عائشہؓ کے فتوی کی طرف ہے۔ جیسا کہ عنوانِ باب میں محمد بن مثنیٰ کے قول کا حوالہ دے کر اس بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ علاوہ ازیں روایت نمبر ۱۹۹۹ کے آخر میں ابراہیم بن سعد کی ممانعت کا حوالہ بھی اسی غرض سے دیا گیا ہے۔ یہ روایت امام شافعی نے موصولاً نقل کی ہے کہ تمتع کرنے والا قربانی کے جانور نہ پائے اور وقوف عرفات سے پہلے اس نے تین روزے نہیں رکھے تو وہ ایام تشریق کے دنوں میں روزہ رکھ سکتا ہے۔ یہ دن قربانی والے دن بھی ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ عید کے دن روزہ رکھنا بہر حال ممنوع ہے۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۳۰۷) باب ٦٩ : صِيَامُ يَوْمٍ عَاشُوْرَاءَ عاشوراء کے دن روزہ رکھنا ۲۰۰۰: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ۲۰۰۰: ابوعاً ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيْهِ عمر بن محمد سے، عمر نے سالم سے ، سالم نے اپنے باپ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ ( حضرت عبد اللہ بن عمر ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُوْرَاءَ إِنْ شَاءَ کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء صَامَ۔ اطرافه: ١٨٩٢، ٤٥٠١۔ کے دن فرمایا : اگر چاہے تو (اُس دن ) روزہ رکھ لے۔