صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 670
صحيح البخاري - جلد۳ ۶۷۰ ٣٠ - كتاب الصوم فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ عِيْدٍ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ مانی ہے کہ وہ ایک دن روزہ رکھے گا، کہا کہ میرا خیال أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى ہے کہ اُس نے کہا کہ دوشنبہ کو۔تو اتفاق سے وہ عید کا اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ دن تھا، تو حضرت ابن عمر نے کہا کہ اللہ نے تو حکم دیا ہے کہ نذر پوری کی جائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اطرافه: ٦٧٠٥، ٦٧٠٦۔اُس دن روزے سے روکا ہے۔۱۹۹٥ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ :۱۹۹۵ حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شعبہ نے ہمیں بتایا۔عبدالملک بن عمیر نے ہم سے عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ قَزَعَةَ قَالَ سَمِعْتُ بیان کیا، کہا: میں نے قرعہ ( بن تي ) سے سنا۔انہوں أَبَا سَعِيدِ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نے کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ وَكَانَ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وہ بارہ وَسَلَّمَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ غَزْوَةً قَالَ سَمِعْتُ لڑائیوں میں شریک ہوئے تھے۔انہوں نے کہا: نبی أَرْبَعًا مِّنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلى اللہ علیہ وسلم سے میں نے چار باتیں سنی ہیں جو فَأَعْجَبْتَنِي قَالَ لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ مجھے بہت پیاری ہیں۔آپ نے فرمایا: عورت دو دن مَسِيْرَةَ يَوْمَيْنِ إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا أَوْ کی مسافت کا سفر نہ کرے مگر اس صورت میں جبکہ ذُو مَحْرَمٍ وَلَا صَوْمَ فِي يَوْمَيْنِ الْفِطْرِ اُس کے ساتھ اُس کا خاوند یا محرم رشتہ دار ہو، اور دو دن عید الفطر اور عید الاضحیٰ کو روزہ نہ رکھا جائے، اور صبح وَالْأَضْحَى وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ کی نماز کے بعد نماز نہ پڑھی جائے یہاں تک کہ حَتَّى تَغْرُبَ وَلَا تُشَدُّ الرِّجَالُ إِلَّا إِلَى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ سورج نکل آئے اور نہ عصر کے بعد یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے، اور کجاوے نہ کسے جائیں ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ مَسْجِدِ الْحَرَامِ مَر تین مسجدوں کے لئے مسجد حرام، مسجد اقصی اور وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى وَمَسْجِدِي هَذَا۔میری یہ مسجد۔اطرافه: ۵۸۶، ۱۱۸۸ ، ۱۱۹۷، ١٨٦٤، ۱۹۹۲۔