صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 666 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 666

صحيح البخاری جلد ۳ ۶۶۶ ٣٠- كتاب الصوم نزدیک پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنے کے بارے میں جو روایتیں منقول ہیں وہ غیر مستند ہیں۔كَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً : آپ کے اعمال عبادت میں ایک دوامی صورت تھی جیسا کہ باب ۵۷ کی تشریح میں واضح کیا جا چکا ہے۔یہود میں پیر کو بھی روزہ رکھنے کا رواج تھا۔اُن کے ہاں روزے میں صرف گوشت اور آگ پر پکی ہوئی شے کے استعمال سے پر ہیز ہوتا۔بَاب ٦٥: صَوْمُ يَوْمِ عَرَفَةَ عرفہ کے دن روزہ رکھنا ۱۹۸۸: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۱۹۸۸: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یجی (قطان ) يَحْيَى عَنْ مَّالِكِ قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ قَالَ نے ہمیں بتایا۔مالک سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ أَنَّ سالم نے مجھ سے بیان کیا، کہا: عمیر نے جو حضرت أُمَّ الْفَضْلِ حَدَّثَتْهُ۔ح ام فضل کے آزاد کردہ غلام تھے، مجھے بتایا کہ حضرت اتم فضل نے اُن سے بیان کیا۔وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا نیز عبد الله بن یوسف نے بھی ہم سے بیان کیا کہ مالک مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْن نے ہمیں خبر دی۔ابونضر سے جو عمر بن عبید اللہ کے عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ آزاد کردہ غلام تھے، مروی ہے۔انہوں نے عمیر سے جو الْعَبَّاسِ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ کہ حضرت عبداللہ بن عباس کے آزاد کردہ غلام تھے۔عمیر نے حضرت ام فضل بنت حارث سے روایت کی کہ أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةً فِي اُن کے پاس عرفہ کے دن کچھ لوگوں نے نبی ﷺ کے صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روزے کی نسبت اختلاف کیا۔اُن میں سے بعض نے فَقَالَ بَعْضُهُمْ هُوَ صَائِمٌ وَقَالَ بَعْضُهُمْ کہا کہ آپ روزہ دار ہیں اور بعض نے کہا: روزہ دار لَيْسَ بِصَائِمِ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنِ نہیں۔تو (حضر اتم فضل) نے آپ کے پاس وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيْرِهِ فَشَرِبَهُ۔دودھ کا پیالہ بھیجا۔اُس وقت آپ بحالت وقوف عرفہ اپنے اونٹ پر سوار تھے تو آپ نے وہ پی لیا۔اطرافه: ١٦٥۸، ١٦٦١، ٥٦٠٤، ٥٦١٨، ٠٥٦٣٦ عمدۃ القاری میں یہ لفظ "فَارسَلَتْ“ ہے۔(عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۱۰۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔