صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 666
صحيح البخاری جلد ۳ ५५५ ٣٠ - كتاب الصوم نزدیک پیر اور جمعرات کو روزہ رکھنے کے بارے میں جو روایتیں منقول ہیں وہ غیر مستند ہیں۔ كَانَ عَمَلُهُ دِيْمَةً : آپ کے اعمال عبادت میں ایک دوامی صورت تھی جیسا کہ باب ۵۷ کی تشریح میں واضح کیا جا چکا ہے۔ یہود میں پیر کو بھی روزہ رکھنے کا رواج تھا۔ اُن کے ہاں روزے میں صرف گوشت اور آگ پر پکی ہوئی شے کے استعمال سے پر ہیز ہوتا۔ بَاب ٦٥ : صَوْمُ يَوْمِ عَرَفَةَ عرفہ کے دن روزہ رکھنا ۱۹۸۸: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۱۹۸۸ : مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحی ( قطان ) يَحْيَى عَنْ مَّالِكٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ قَالَ نے ہمیں بتایا ۔ مالک سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حَدَّثَنِي عُمَيْرٌ مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ أَنَّ سالم نے مجھ سے بیان کیا، کہا: عمیر نے جو حضرت ام فضل کے آزاد کردہ غلام تھے، مجھے بتایا کہ حضرت أُمَّ الْفَضْلِ حَدَّثَتْهُ۔ ح ام فضل نے اُن سے بیان کیا۔ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا نیز عبد اللہ بن یوسف نے بھی ہم سے بیان کیا کہ مالک مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ نے ہمیں خبر دی۔ ابونضر سے جو عمر بن عبیداللہ کے عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ آزاد کردہ غلام تھے، مروی ہے۔ انہوں نے عمیر سے جو اريم الْعَبَّاسِ عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ کہ حضرت عبداللہ بن عباس کے آزاد کردہ غلام تھے۔ أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي عمیر نے حضرت ام فضل بنت حارث سے روایت کی کہ صلى الله اُن کے پاس عرفہ کے دن کچھ لوگوں ۔ کچھ لوگوں نے نبی ﷺ کے علومة صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روزے کی نسبت اختلاف کیا۔ اُن میں سے بعض نے فَقَالَ بَعْضُهُمْ هُوَ صَائِمٌ وَقَالَ بَعْضُهُمْ کہا کہ آپ روزہ دار ہیں اور بعض نے کہا: روزہ دار لَيْسَ بِصَائِمٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَن نہیں۔ تو (حضرت ام فضل) نے آپ کے پاس وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيْرِهِ فَشَرِبَهُ۔ دودھ کا پیالہ بھیجا۔ اُس وقت آپ بحالت وقوف عرفہ اپنے اونٹ پر سوار تھے تو آپ نے وہ پی لیا۔ اطرافه ١٦٥٨ ، ١٦٦١، 56٠٤، 5618، 5636۔ عمدۃ القاری میں یہ لفظ ”فَارُ سَلَتْ“ ہے۔ (عمدۃ القاری جزءا اصفحہ ۱۰۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔