صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 665 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 665

صحيح البخاری جلد ۳ ۶۶۵ ٣٠ - كتاب الصوم عیدین میں روزہ رکھنے کی حرمت کی نسبت ائمہ کا اتفاق ہے۔ اُن میں سے بعض نے جمعہ کو عید پر قیاس کیا ۔ مگر امام مالک وغیرہ کے نزدیک جمعہ کا تنہا روزہ تو ناجائز ہے لیکن جمعرات یا ہفتہ کے ساتھ اُس دن کا روزہ رکھا جا سکتا ہے۔ امام ابن قیم نے اس بارے میں یہ رائے ظاہر کی ہے کہ ہر جمعہ ہر پہلو سے عید کے مشابہ نہیں۔ اس لئے عید کا حکم اس پر اطلاق نہیں پاتا۔ امام ابن حجر نے مختلف تو جیہیں بیان کرنے کے بعد اس رائے کا اظ ائے کا اظہار کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کو عید قرار دیا ہے اور چونکہ یہود سبت کی تعظیم میں مبالغے سے کام لیتے تھے اور اس دن نیم روزہ بھی رکھتے تھے۔ اس لئے مسلمان یہود کی تقلید سے روکے گئے ہیں۔ یہ توجیہہ معقول ہے۔ (فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۲۹۸، ۲۹۹) امام ابن قیم کی توجیہہ بھی قابل قدر ہے۔ اس تعلق میں یہ بھی ضروری ہے کہ یہو دسبت کی تیاری جمعہ کے دن ظہر کے بعد شروع کرتے تھے اور اُن میں سے جو زاہد ہوتے تھے۔ وہ جمعہ کے دن روزہ رکھتے اور سبت کے دن قربانی کے گوشت کے ساتھ روزہ افطار کیا جاتا۔ یہودی دائرۃ المعارف میں اس امر کی صراحت ہے کہ جمعہ کے دن وہ اس لئے روزہ رکھتے کہ سبت کی قربانی سے اچھی طرح حظ اٹھائیں۔ (The Jewish Encyclopedia, under word:Fasting, Volume 5) باب ٦٤ : هَلْ يَخُصُّ شَيْئًا مِّنَ الْأَيَّامِ کیا ( روزے کے لئے ) کوئی دن مخصوص کیا جاسکتا ہے؟ ۱۹۸۷: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۱۹۸۷ : مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ کي ( قطان ) يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سفیان (ثوری) سے، إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ سفیان نے منصور سے، منصور نے ابراہیم سے، انہوں رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا هَلْ كَانَ رَسُوْلُ اللهِ نے علقمہ سے روایت کی کہ میں نے حضرت عائشہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتَصُّ مِنَ رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الْأَيَّامِ شَيْئًا قَالَتْ لَا كَانَ عَمَلُهُ کوئی دِن ( روزہ کے لئے ) مخصوص کیا کرتے تھے؟ تو دِيْمَةً وَأَيُّكُمْ يُطِيقُ مَا كَانَ رَسُولُ اللهِ انہوں نے کہا: نہیں ۔ آپ کا عمل دوامی صورت رکھتا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيقُ ۔ تھا اور تم میں سے کون ہے جو ایسی طاقت رکھتا ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے۔ اطرافة: ٦٤٦٦۔ تشريح ۔ هَلْ يَخْصُ شَيْئًا مِنَ الأَيام: باب اعوان استفہامی ہے اور مندرجہ ذیل روایت سے ظاہر ہے کہ یہ استفہام انکاری ہے۔ امام ابن حجر کا خیال درست معلوم ہوتا ہے کہ امام ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے