صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 667 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 667

صحيح البخاری جلد ۳ ۶۶۷ ٣٠- كتاب الصوم ۱۹۸۹: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ :۱۹۸۹ حي بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبِ أَوْ قُرِئَ عَلَيْهِ قَالَ (عبد الله بن وہب نے مجھے خبر دی۔یا ( کہا ) کہ اُن أَخْبَرَنِي عَمْرُو عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ كُرَيْبٍ کے سامنے پڑھا گیا۔انہوں نے کہا: عمرو بن حارث ) نے مجھے نگیر سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ کریب عَنْ مَّيْمُوْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّاسَ سے مروی ہے۔انہوں نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا شَكُوا فِي صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے روایت کی کہ لوگوں نے عرفہ کے دن نبی صلی اللہ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ علیہ وسلم کے روزہ کی نسبت شک کیا تو انہوں نے آپ بِحِلَابٍ وَهُوَ وَاقِفٌ فِي الْمَوْقِفِ کے پاس دودھ بھیجا جبکہ آپ عرفات کے میدان میں فَشَرِبَ مِنْهُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُوْنَ۔وقوف فرما تھے تو آپ نے اُس سے لے کر پیا اور لوگ آپ کو دیکھ رہے تھے۔تشریح: صَوْمُ يَوْمٍ عَرَفَةَ: سلف صالح کے نزدیک عرفہ کے دن بھی روزہ کھنا منوع ہے۔جمہور کا مذ ہب بھی یہی ہے۔امام بخاری نے بھی عنوان میں جملہ اسمیہ کی خبر حذف کر دی ہے۔اُن کے نزدیک وہ روایتیں غیر مستند ہیں جن میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا ذکر ہے۔(فتح الباری جز به صفحه ۳۰۱) (عمدۃ القاری جزءا اصفحہ ۱۰۷) اس صورت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے عنوانِ باب مہم اور نا تمام کیوں رکھا ہے؟ علاوہ ازیں ایک اور سوال بھی قابل حل ہے کہ عرفہ کے دن لوگوں کو کیوں شک ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم روزہ دار ہیں، آیا اُس دن روزہ رکھا جاتا تھا؟ لوگوں کا یہ شک بلا وجہ نہیں ہو سکتا۔امام ابن حجر نے تصریح کی ہے کہ زمانہ قبل از اسلام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حج کے ایام میں عرفہ کے دن روزہ رکھا کرتے تھے۔(فتح الباری جز ۴۰ صفحہ ۳۰۲) جن لوگوں نے یہ سمجھا کہ آپ کا روزہ ہے؟ انہوں نے آپ کی معروف عادت کی بنا پر قیاس کیا ہے اور جنہوں نے شک کا اظہار کیا، اُن کا شک اس بناء پر تھا کہ آپ بحالت سفر ہیں اور سفر میں روزہ نہیں رکھا جاتا۔امام موصوف نے اس مسئلہ میں نفی یا اثبات کی بابت خاموشی اختیار کی ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیش ہونے پر پیا۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اُس دن روزہ نہیں تھا۔مگر اس امر سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عرفہ کے دن روزہ رکھنا ممنوع ہے۔امام مالک نے باقی ائمہ کے ساتھ اتفاق کیا ہے کہ نذر کا روزہ اس دن رکھنا جائز ہے مگر جمہور اُن سے متفق نہیں۔اُن کا کہنا ہے کہ خلاف شریعت روزے کی نذرنا جائز ہے۔