صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 664
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۶۴ ٣٠ - كتاب الصوم ١٩٨٥ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ ۱۹۸۵ : عمر بن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان کیا ابْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشِ کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ اعمش نے ہم سے حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بیان کیا کہ ابو صالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وس اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ لَا يَصُوْمُ ہے کہ تم میں سے کوئی جمعہ کے روز روزہ نہ رکھے مگر أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا يَوْمًا قَبْلَهُ أَوْ اس صورت میں کہ اُس سے پہلے یا اُس کے بعد بھی بَعْدَهُ۔ ایک دن روزہ رکھے۔ ١٩٨٦ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۱۹۸۶: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحی ( قطان ) يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ۔ ح نے ہمیں بتایا کہ شعبہ سے مروی ہے۔ وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا نیز محمد بن بشار ) نے مجھ سے بیان کیا کہ غندر نے ہمیں شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ بتایا ۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے قتادہ سے، جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللهُ قتادہ نے ابوایوب سے، ابوایوب نے حضرت جویریہ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهِيَ صَائِمَةٌ علیہ وسلم جمعہ کے دن اُن کے دن اُن کے پاس آئے اور وہ روزہ دار تھیں تو آپ نے فرمایا: کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا ؟ فَقَالَ أَصُمْتِ أَمْسِ قَالَتْ لَا قَالَ اُنہوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا تم چاہتی ہو کہ تُرِيدِيْنَ أَنْ تَصُوْمِي غَدًا قَالَتْ لَا قَالَ كل روزہ رکھو؟ کہا نہیں ۔ فرمایا: تو روزہ افطار کرو۔ اور فَأَفْطِرِيْ۔ وَقَالَ حَمَّادُ بْنُ الْجَعْدِ حماد بن بعد نے کہا: انہوں نے قتادہ سے سنا۔ ( انہوں سَمِعَ قَتَادَةَ حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ أَنَّ نے کہا: ابوایوب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت جُوَيْرِيَةَ حَدَّثَتْهُ فَأَمَرَهَا فَأَفْطَرَتْ ۔ جویریہ نے انہیں بتایا کہ آپ نے انہیں ( روزہ کھول دینے کا حکم دیا تو انہوں نے روزہ کھول دیا۔ تشریح : صَوْمُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ: نفلی روزوں کی عام بحث کے بعد خصوص ایام کے روزوں کا ذکر کیا گیا ہےاور اس بارے میں سات ابواب قائم سات ابواب قائم کئے گئے ہیں۔ جن میں جمعہ ، عرفہ وغیرہ ۔ وغیرہ کے روزوں کی تحقیق مد نظر ہے۔