صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 53
صحيح البخاری جلد۳ ۵۳ ٢٤ - كتاب الزكاة بَابِ ۱۹ : الْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى جو دیا ہے اس پر احسان جتانے والا ہو لِقَوْلِهِ: الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي کیونکہ ( الله عز وجل ) فرماتا ہے: جو اپنے مالوں کو اللہ سَبِيْلِ اللهِ ثُمَّ لَا يُتَّبِعُونَ مَا أَنْفَقُوا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔پھر جو انہوں نے خرچ کیا ہوتا ہے، اس کے بعد نہ احسان جتاتے ہیں اور نہ مَنَّا وَلَا أَذًى (البقرة: ٢٦٣) الْآيَةَ۔ایذاء دیتے ہیں۔تشریح: الْمَنَّانُ بِمَا أعطى امام شہاب الدین احمد عسقلانی" کا یہ خیال ہے کہ امام بخاری کو باب ہذا کے مطابق کوئی مستند حدیث نہیں ملی۔اس لئے انہوں نے آیت نقل کرنے پر اکتفاء کیا ہے اور عنوان باب میں ضمنا حضرت ابوذر کی روایت سے اشارہ کر دیا ہے جو امام مسلم نے بایں الفاظ نقل کی ہے : ثَلاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمَنَّانُ الَّذِى لَا يُعْطِي شَيْئًا إِلَّا مَنهُ۔(مسلم، کتاب الإيمان، باب بیان غلظ تحريم إسبال الإزار والمن بالعطية) تین شخصوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا۔ایک وہ جو دے کر احسان جتاتا ہے تو تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء صفحہ ۳۷۷۔باب ۶، ۷ میں مذکورہ بالا آیت کا حوالہ دیا گیا ہے اور اس کے تحت بھی کوئی روایت درج نہیں کی گئی۔صدقات سے متعلق امام موصوف نے جب ایک اہم عنوان قائم کیا ہے تو کتاب اللہ سے کسی ایک آیت کا حوالہ دے کر اسی پر اکتفاء کیا ہے اور اس تعلق میں دیگر ابواب قائم کر کے روایات سے مختلف مسائل کی تشریح فرمائی ہے۔اس کی مثالیں پہلے بھی گزر چکی ہیں۔آئندہ بھی آئیں گی۔بَاب ٢٠ : مَنْ أَحَبَّ تَعْجِيْلَ الصَّدَقَةِ مِنْ يَوْمِهَا جو صدقہ جلدی دینا پسند کرے ، اسی روز (جس روز صدقے والا مال آئے ) ١٤٣٠: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ۱۴۳۰ ابو عاصم ( نبیل) نے ہم سے بیان کیا۔عُمَرَ بْن سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ انہوں نے عمر بن سعید سے ہعمر نے ابن ابی ملیکہ سے عُقْبَةَ بْنَ الْحَارِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ روایت کی کہ حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے حَدَّثَهُ قَالَ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى الله ان سے بیان کیا، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَأَسْرَعَ ثُمَّ دَخَلَ عصر کی نماز پڑھائی تو جلدی سے گھر گئے اور پھر باہر