صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 52 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 52

صحيح البخاری جلد ۳ ۵۲ ٢٤ - كتاب الزكاة کرنے والے بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو مخصوص حالات میں اپنا سارا مال یہ تقاضائے حالات اللہ تعالیٰ کے راستے میں پیش کر دیتے ہیں۔ایسے لوگوں کی قربانی ایک اعلیٰ درجہ کا اسوہ حسنہ ہے کسی قسم کے ابتلاء کا خوف ان کو اور ان کے اہل وعیال کو نہیں ہوتا۔لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلَّا وُسْعَهَا۔(البقره:۲۳۴) { کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالا جاتا } ایسے لوگوں کے نفوس کی وسعت اپنی اپنی ہمت عالیہ کے مطابق ہی ہوتی ہے لیکن اگر یہ روح ایثار نہیں تو پھر عام قاعده لَا صَدَقَةَ إِلَّا عَنْ ظَهْرِ غنی ہی ہے کہ ضروری حاجات پوری کرنے کے بعد ہی صدقہ دیا جائے۔حضرت ابوبکر اور انصار کے صدقات بھی درحقیقت ایک طرح عَنْ ظَهْرِ غِنی یعنی استغنائے نفس کی وجہ ہی سے تھے۔علاوہ ازیں دوسرے لوگوں کے اموال ضائع کرنے کا تعلق بھی ان کے صدقات کے ساتھ نہ تھا۔عنوان باب کے تحت چار روایتیں جو ایک ہی معنی میں ہیں نقل کر کے حدیث لَا صَدَقَةَ إِلَّا عَنْ ظَهْرِ غِنی کے مفہوم کو اور زیادہ واضح کر دیا ہے۔سب کچھ دے کر پھر لوگوں سے اپنی ضرورتیں پورا کرنے کے لئے سوال شروع کر دینا اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ایسے صدقہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا ہے۔بلکہ بعض نے جب پیش کیا تو آپ نے نہیں لیا۔لیکن اگر کسی کو یقین ہو کہ وہ اپنے ذرائع معاش سے اپنا قرضہ چکا دے گا اور محتاج کی حاجت روائی کرنا یا ز کوۃ دینا ضرورت حقہ ہے تو یہ فعل پسندیدہ ہے۔حضرت اسماء بنت ابی بکر سے متعلق مشہور ہے کہ وہ محتاج کی ضرورت قرض لے کر بھی پوری کرتی تھیں اور قرآن مجید کا ارشاد اس بارہ میں صریح ہے: وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ (الحشر :۱۰) { اور خود اپنی جانوں پر دوسروں کو تر جیح دیتے ہیں باوجود اس کے کہ انہیں خودنگی در پیش تھی۔یعنی مومن اپنی ذاتی ضرورتوں پر دوسروں کی ضرورت مقدم کرتے ہیں۔اسی امر کی طرف توجہ منعطف کرانے کے لئے عنوانِ باب میں اس آیت کا نیز صحابہ کرام کے اسوۂ حسنہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔قرآن مجید میں مسئلہ معنونہ کی بابت اصولی اور جامع تعلیم دی گئی ہے۔فرماتا ہے: وَيَسْئَلُوْنَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَo(البقرة: ۲۲۰) تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ وہ کیا اور کتنا خرچ کریں۔کہو: العفو عفو کے تین معانی ہیں۔(۱) بہترین اور پسندیدہ شی۔(۲) جو ضرورت سے زائد ہو۔(۳) بغیر سوال و مطالبہ دینا۔انفاق کے ان تینوں معانی کی تفصیل اور ان کے محل و موقع کی تشریح پوری وضاحت سے کی گئی ہے۔قرآن مجید میں بھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے اسوہ حسنہ سے بھی۔(اس تعلق میں دیکھئے باب ۱۲،۱۱،۱۰ ، ۵۲،۵۱) اس ضمن میں یہ یادر ہے کہ قرآن مجید نے زکوۃ وصدقہ فطر وغیرہ کے احکام عام حالات کے لئے صادر فرمائے ہیں مگر غیر معمولی حالات میں نفس نفیس کی انتہائی قربانی سے متعلق ہدایات بیان کی ہیں۔فرماتا ہے: إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اَنْفُسَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ۔۔۔(التوبة ) یعنی اللہ تعالی نے مومنوں سے ان کی جائیں اور ان کے مال اس وعدہ پر خرید لیے ہیں کہ انہیں اس کے بدلہ میں جنت ملے گی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے دونوں قسم کی ہدایات کے مطابق اعلی درجہ کا نمونہ قربانی دکھایا۔