صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 663
صحيح البخاری جلد۳ ۶۶۳ ٣٠- كتاب الصوم کے تو سارے روزے رکھنا فرض تھا۔اس لئے آپ کی مراد شعبان ہی کے آخری دو روزے چھوڑ دینا ہے تا رمضان کے روزوں کے ساتھ التباس نہ ہو۔ثابت کی یہ روایت امام احمد بن حنبل ہے اور امام مسلم نے حماد بن سلمہ کی سند سے موصولا نقل کی ہے۔شارحین نے عنوانِ باب سے متعلق وہی سوال اُٹھایا ہے جو باب ۶۲ سے متعلق اُٹھایا تھا۔یعنی مندرجہ روایت میں تو رمضان یا شعبان کا ذکر ہے مگر عنوان میں (الشَّهر) مطلق مہینے کا ذکر کیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض نے سرد سے شعبان کا وسط مراد لیا ہے۔اس لحاظ سے سور کا لفظ سُرَّة سے مشتق سمجھا جائے گا جس کے معنی ناف کے ہیں۔یعنی چاندنی راتیں جو مہینے کے وسط میں آتی ہیں اور بعض نے مہینے کا ابتدا۔چنانچہ لفظ اکسر کے معنے ہیں مُسْتَهَلُ الشَّهْرِ) یعنی مہینے کا شروع۔(لسان العرب - سور ) عنوانِ باب ہی میں اس لغوی اختلاف کی نسبت اپنی رائے کا اظہار کر دیا ہے اور اس کی تائید باب ۱۴ روایت نمبر ۱۹۱۴ سے بھی ہوتی ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے کہ رمضان سے پہلے ایک یا دو روزے نہ رکھے جائیں اور شعبان کا مہینہ ہی رمضان سے پہلے ہوتا ہے۔بَاب ٦٣ : صَوْمُ يَوْمِ الْجُمُعَةِ جمعہ کے دن روزہ رکھنا وَإِذَا أَصْبَحَ صَائِمًا يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَعَلَيْهِ اور اگر کوئی جمعہ کے دن روزہ دار ہو تو اُس پر واجب أَنْ يُفْطِرَ۔{ يَعْنِي إِذَا لَمْ يَصُمْ قَبْلَهُ ہے کہ وہ افطار کرے۔{س1 یعنی اگر اُس نے اس سے پہلے روزہ نہیں رکھا اور نہ اُس کے بعد روزہ رکھنا وَلَا يُرِيْدُ أَنْ يَصُوْمَ بَعْدَهُ } چاہتا ہے۔} ١٩٨٤ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ :۱۹۸۴: ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيْدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ ابن جریج سے، ابن جریج نے عبدالحمید بن جبیر بن شَيْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْن عَبَّادٍ قَالَ سَأَلْتُ شیبہ سے، عبدالحمید نے محمد بن عباد سے روایت کی کہ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّی انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ قَالَ نَعَمْ۔زَادَ غَيْرُ أَبِي عَاصِمٍ يَعْنِي أَنْ رکھنے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔يَنْفَرِدَ بِصَوْمِهِ۔L ابو عاصم کے سوا دوسرے راویوں نے یہ الفاظ مزید کہے کہ وہ صرف جمعہ کا روزہ رکھے۔(مسند احمد بن حنبل، ، مسند البصريين، حديث عمران بن حصین، جز ۴ صفحه ۴۴۳) ے (مسلم، کتاب الصيام، باب صوم شرر (شعبان) ے یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔(فتح الباری جز ۴۰ حاشیہ صفحہ ۲۹۴)