صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 662 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 662

صحيح البخاری جلد ۳ ۶۶۲ ٣٠ - كتاب الصوم وَحَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ نیز ابو نعمان نے بھی ہم سے بیان کیا کہ مہدی بن میمون مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ نے ہمیں بتایا کہ غیلان بن جریر نے ہم سے بیان کیا۔ مُّطَرفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ انہوں نے مطرف ( بن عبداللہ ) سے اور مطرف نے اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہا سے، حضرت عمران نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے اُن سے وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَأَلَهُ أَوْ سَأَلَ رَجُلًا پوچھایا یہ کہا) کہ کسی اور شخص سے پوچھا اور عمران حسن وَعِمْرَانُ يَسْمَعُ فَقَالَ يَا أَبَا فُلَانٍ أَمَا رہے تھے اور آپ نے فرمایا: فلاں کے باپ! کیا تم صُمْتَ سَرَرَ هَذَا الشَّهْرِ قَالَ أَظُنُّهُ قَالَ نے اس مہینے کے آخری دنوں میں روزہ نہیں رکھا ؟ يَعْنِي رَمَضَانَ قَالَ الرَّجُلُ لَا يَا رَسُوْلَ (ابو عمان نے) کہا: میرا خیال ہے کہ اس مہینے سے اللَّهِ قَالَ فَإِذَا أَفْطَرْتَ فَصُمْ يَوْمَيْنِ لَمْ آپ کی مراد رمضان کا مہینہ تھی۔ اُس شخص نے کہا: يَقُلِ الصَّلْتُ أَظُنُّهُ يَعْنِي رَمَضَانَ قَالَ نہیں ۔ یا رسول اللہ ! ( میں نے روزہ نہیں رکھا۔) آپ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ ثَابِتٌ عَنْ مُّطَرفٍ نے فرمایا: جب تم روزہ چھوڑ و تو دو دن روزہ رکھو۔ عَنْ عِمْرَانَ عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ملت نے اپنی روایت میں وَأَظُنُّهُ يَعْنِي رَمَضَانَ نہیں بیان کیا۔ ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: وَسَلَّمَ مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ۔ {وَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ شَعْبَانَ أَصَحُ ۔} ثابت نے کہا: مطرف سے، مطرف نے حضرت عمران سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو روایت نقل کی ہے، اُس میں یہ لفظ ہیں : مِنْ سَرَرِ شَعْبَانَ۔ شعبان کے آخری دنوں میں ۔ { اور ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: شعبان زیادہ درست ہے۔} تشريح : الصَّوْمُ مِنْ آخِرِ الشَّهْرِ : سر جع ہے سرار کی تین مہین کی آخری راتیں جب چاند کا ۔ کہتے ہیں: اِسْتَسَرَّ الْقَمَرُ یعنی چاند چھپ گیا ۔ (لسان العرب - سرور ) روایت زیر باب دوسندوں سے ------ نقل کی ہے۔ ایک ملت بر صلت بن محمد راوی ہیں اور دوسرے میں ابو نعمان ۔ روایت میں شک ہے کہ آیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری دن فرمایا یا شعبان کے آخری دن۔ یہ شک ابو نعمان کی طرف سے ہے۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے روایت کے آخر میں ثابت کی روایت کا حوالہ دے کر واضح کر دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک رمضان یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطالبہ باری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جز ۴۰ حاشیہ صفحہ ۲۹۲)