صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 661 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 661

صحيح البخاری جلد ۳ ٦٦١ ٣٠ - كتاب الصوم وَحَدَّثَتْنِي ابْنَتِي أُمَيْنَةُ أَنَّهُ دُفِنَ لِصُلْبِي (آج) أن انصاریوں میں سے ہوں جو سب سے مَقْدَمَ حَجَّاجِ الْبَصْرَةَ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ زیادہ مالدار ہیں اور میری بیٹی امینہ نے مجھ سے بیان وَمِائَةٌ۔ کیا کہ جب حجاج بصرہ میں آیا تو اُس وقت میری پشت سے ایک سو بیس سے کچھ زیادہ بچے فوت ہو چکے تھے۔ قَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ (سعيد) بن ابی مریم نے کہا کہ یحی بن ایوب نے أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ سَمِعَ أَنَسًا ہمیں خبر دی کہ انہوں نے کہا: حمید نے مجھے بتایا کہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ اطرافة: ٦٣٣٤، ٦٣٤٤، 6378، 6380۔ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی۔ تشريح : مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَمْ يُفْطِرُ عِندَهُمْ : یہ باب بھی سابقہ مضمون کے تعلق میں ہے کسی مسلے کی بنیاد کسی ایک واقعہ پر بشکل عمومیت رکھنا مناسب نہیں۔ باب نمبر ۵۱ کی روایت میں گذر چکا ہے کہ مہمان نے نفلی روزے میں اپنے میزبان کو قسم دی کہ وہ اُس کے ساتھ کھانا کھائے اور روزہ افطار کرے۔ اس سے یہ ضروری نہیں پایا جاتا کہ ہر مہمان ایسا ہی کرے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں نفلی روزہ افطار نہیں فرمایا۔ افطار یا عدم افطار حالات پر منحصر ہے۔ روایت نمبر ۱۹۸۲ کے آخر میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے لمبی عمر پانے کا ذکر ہے۔ حجاج بن یوسف ۷۵ھ میں بصرہ آئے ، اُس وقت حضرت انس رضی اللہ عنہ کی عمر پچاسی سال کے قریب تھی اور وہ اس کے بعد بھی زندہ رہے۔ سو سال کی عمر میں انہوں نے وفات پائی۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحہ ۲۹۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبولیت دعا کے متعلق خارق عادت مثالوں میں سے حضرت انس کے لمبی عمر پانے کا واقعہ بھی ہے۔ روایت نمبر ۱۹۸۲ معنعن ہے اور نمبر ۱۹۸۳ موصول حمید الطویل راوی سے متعلق تدلیس کا جو شبہ ہے، اس کا ازالہ دوسری سند سے کیا گیا ہے۔ باب ٦٢ : الصَّوْمُ مِنْ آخِرِ الشَّهْرِ مہینے کے آخر دنوں میں روزہ رکھنا ۱۹۸۳ : حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۱۹۸۳: ملت بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ مہدی حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ عَنْ غَيْلَانَ بن میمون ) نے غیلان سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔