صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 661
صحيح البخاری جلد ٣ पाषा ٣٠ - كتاب الصوم وَحَدَّثَتْنِي ابْنَتِي أُمَيْنَةُ أَنَّهُ دُفِنَ لِصُلْبِي (آج) أن انصاریوں میں سے ہوں جو سب سے مَقْدَمَ حَجَّاجِ الْبَصْرَةَ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ زیادہ مالدار ہیں اور میری بیٹی امینہ نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حجاج بصرہ میں آیا تو اُس وقت میری پشت وَمِائَةٌ۔سے ایک سو میں سے کچھ زیادہ بچے فوت ہو چکے تھے۔قَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ (سعيد) بن ابی مریم نے کہا کہ یحی بن ایوب نے أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ سَمِعَ أَنَسًا ہمیں خبر دی کہ انہوں نے کہا: حمید نے مجھے بتایا کہ النَّبِيِّ صَلَّى الله انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔انہوں اللهُ عَنْهُ عن رَضِيَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔اطرافة: ٦٣٣٤، ٦٣٤٤، ٦٣٧٨ ، ٦٣٨٠ تشریح: نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی۔مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَمْ يُفْطِرُ عِنْدَهُمُ : یہ باب بھی سابقہ مضمون کے تعلق میں ہے۔کسی مسئلے کی بنیاد کسی ایک واقعہ پر بشکل عمومیت رکھنا مناسب نہیں۔باب نمبراہ کی روایت میں گذر چکا ہے کہ مہمان نے نفلی روزے میں اپنے میزبان کو قسم دی کہ وہ اُس کے ساتھ کھانا کھائے اور روزہ افطار کرے۔اس سے یہ ضروری نہیں پایا جاتا کہ ہر مہمان ایسا ہی کرے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں نفلی روزہ افطار نہیں فرمایا۔افطار یا عدم افطار حالات پر منحصر ہے۔روایت نمبر ۱۹۸۲ کے آخر میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے لمبی عمر پانے کا ذکر ہے۔حجاج بن یوسف ۷۵ ھ میں بصرہ آئے ، اُس وقت حضرت انس رضی اللہ عنہ کی عمر پچاسی سال کے قریب تھی اور وہ اس کے بعد بھی زندہ رہے۔سو سال کی عمر میں انہوں نے وفات پائی۔(فتح لباری جز ہم صفحہ ۲۹) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبولیت دعا کے متعلق خارق عادت مثالوں میں سے حضرت انس کے لمبی عمر پانے کا واقعہ بھی ہے۔روایت نمبر ۱۹۸۲ معنعن ہے اور نمبر ۱۹۸۳ موصول حمید الطویل راوی سے متعلق تدلیس کا جو شبہ ہے، اس کا ازالہ دوسری سند سے کیا گیا ہے۔بَاب ٦٢ : الصَّوْمُ مِنْ آخِرِ الشَّهْرِ مہینے کے آخر دنوں میں روزہ رکھنا ۱۹۸۳ : حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۱۹۸۳: صلت بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ مہدی حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ عَنْ غَيْلَانَ (بن میمون) نے غیلان سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔