صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 660
صحيح البخاری جلد ٣ ۶۶۰ ٣٠ - كتاب الصوم در اصل ملت ابراہیمی کی یاد گار تھی اور اسی سے ہمسایہ تو میں بھی متاثر ہوئیں۔چنانچہ قدیم مصریوں میں بھی روزہ رکھا جاتا تھا اور اُن کے ہاں بھی بعض ایام اس غرض کے لئے مخصوص تھے۔قدیم ادیانِ عالم سے متعلق جو تحقیق کی گئی ہے۔اُس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے کے بعد ان قوموں کے آپس میں تمدنی تعلقات تھے اور یہ امر بعید نہیں کہ انہوں نے ایک دوسرے کی تقلید کی ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے در حقیقت ابراہیمی ملت کی تجدید فرمائی ہے اور جس قدر روزوں سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مستند ارشادات اور عمل سے ثابت ہے؛ وہ مسلمانوں کے لئے ضرور قابل اتباع ہے۔بَاب ٦١ : مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَمْ يُفْطِرْ عِنْدَهُمْ جو شخص لوگوں کی ملاقات کو آئے اور اُن کے پاس افطار نہ کرے ۱۹۸۲ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۱۹۸۲: محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا کہ خالد نے قَالَ حَدَّثَنِي خَالِدٌ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ جو حارث کے بیٹے تھے، مجھے بتایا ( کہا) کہ حمید نے ہم حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سے بیان کیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى که نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم کے پاس آئے أُمّ سُلَيْمٍ فَأَتَتْهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنِ قَالَ أَعِيْدُوا تو وہ آپ کے پاس کھجور اور گھی لا ئیں۔آپ نے فرمایا: اپنا گھی اُس کی گھی میں اور اپنی کھجور اس کے تھیلے میں سَمْنَكُمْ فِي سِقَائِهِ وَتَمْرَكُمْ فِي وِعَائِهِ فَإِنِّي صَائِمٌ ثُمَّ قَامَ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ فَصَلَّى غَيْرَ الْمَكْتُوْبَةِ فَدَعَا لِأُمِّ کو ٹا دو کیونکہ میں روزہ دار ہوں ، اور پھر اُٹھ کر گھر کے ایک کونے کی طرف گئے اور نماز پڑھی جو فریضہ نہ تھی اور حضرت ام سلیم کے لئے اور اُس کے گھر والوں سُلَيْمٍ وَأَهْلِ بَيْتِهَا فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا کے لئے دُعا کی حضرت ام سلیم نے کہا: یا رسول اللہ ! رَسُولُ اللَّهِ إِنَّ لِي خُوَيْصَةً قَالَ مَا هِيَ میری ایک خاص عرض ہے۔فرمایا: وہ کیا؟ کہنے لگیں: قَالَتْ خَادِمُكَ أَنَسٌ فَمَا تَرَكَ خَيْرَ آپ کا خادم انس ہے۔(اُس کے لئے دُعا کریں۔) تو آخِرَةٍ وَلَا دُنْيَا إِلَّا دَعَا لِي بِهِ قَالَ آپ نے کوئی بھلائی آخرت اور دنیا کی ایسی نہ چھوڑی اللَّهُمَّ ارْزُقْهُ مَالًا وَوَلَدًا وَبَارِكْ لَهُ فِيْهِ جس کی میرے لئے دُعا نہ کی ہو۔(فرمایا : ) اے اللہ ! فَإِنِّي لَمِنْ أَكْثَرِ الْأَنْصَارِ مَالًا اسے مال اور اولاد دے اور اسے برکت دے۔سو میں