صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 659
صحيح البخاری جلد ٣ ۶۵۹ ٣٠ - كتاب الصوم شروع سے لے کر آخر تک ہے۔کسی عنوان سے یہ دھوکا نہیں کھانا چاہیے کہ اس میں مندرجہ مسلہ اُن کے مسلمات میں سے ہے۔امام ابن حجر نے مسئلہ معنونہ کے بارے میں دس اقوال نقل کئے ہیں: ۱) بقول امام مالک چاندنی را تیں غیر معین ہیں۔۲) بقول حسن بصری ہر مہینے کی پہلی تین راتیں۔(۳) ایک قول کے مطابق یہ تین راتیں بارہویں سے شروع ہوتی ہیں۔۴) ایک دوسرے قول میں تیرہویں تاریخ سے۔(۵) ہر ماہ کا پہلا سبت (ہفتہ) اور اس سے پہلے کا سہ شنبہ اور مابعد کا سہ شنبہ۔(۶) ہر ماہ کی پہلی جمعرات اور پھر دوشنبہ کا دن اور اس کے بعد کی جمعرات۔۷) ہر ماہ کا پہلا دوشنبہ جمعرات اور پھر دوشنبہ۔ہر ماہ کی پہلی دسویں اور بیسویں تاریخ۔(۹) ہر دہا کہ کا پہلا دن۔(۱۰) بقول مخفی ہر ماہ کے آخری تین دن۔( فتح الباری جز به صفحه ۲۸۹) ان اقوال کی تائید میں مختلف روایتیں ہیں جو امام موصوف کی تحقیق کی رُو سے مستند نہیں۔چاندنی کی تین راتیں تو تیرھویں تاریخ سے شروع ہوتی ہیں مگر روزے کے بارہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت قابل اعتبار ہے۔جس میں علی الاطلاق ہر ماہ میں تین روزے رکھنے کا ذکر ہے۔امام مسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں سے متعلق روایت کی ہے کہ آپ ہر ماہ تین روزے رکھا کرتے اور لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَي أَيَّامٍ الشَّهْرِ يَصُومُ (صحيح مسلم، كتاب الصيام، باب استحباب صيام ثلاثة ايام) یعنی یہ خیال نہ فرماتے کہ مہینہ کا کو نسا دن ہے۔البتہ حضرت قتادہ بن ملحان سے جن کا دوسرا نام ابن منہال ہے، یہ روایت نقل کی ہے : كَانَ رَسُولُ اللهِ لا يَأْمُرُنَا اَنْ نَّصُومَ الْبَيْضَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَاَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ۔(ابوداؤد، کتاب الصوم، باب في الصوم الثلاث من كل شهر (ابن ماجه، كتاب الصيام، باب ما جاء في صيام ثلاثة ايام) یعنی رسول الله ہمیں چاندنی راتوں والے ایام میں روزہ رکھنے کے لئے فرماتے یعنی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخ کو۔یہ روایت نقل کر کے انہوں نے کہا: وَقَالَ هُنَّ كَهَيْئَةِ الدَّهْرِ یعنی ہر ماہ میں یہ تین روزے رکھنا عمر بھر کے روزے ہیں۔(فتح الباری جز یه صفحه ۲۸۹،۲۸۸) (عمدۃ القاری جزء اصفحه ۹۷،۹۵) یہ روایت سابقہ ابواب کی روشنی میں دیکھی جائے تو ہر ماہ تین روزے رکھنے کے بارے میں آنحضرت ﷺ کا ارشاد ثابت ہے۔اس تعلق میں یہ ذکر کر دینا خالی از فائدہ نہ ہوگا کہ یہودیوں میں پوریم کے روزے رکھنے اور ظفر مندی کی عید منانے کی تقریب بھی ماہ ادار ( مارچ) میں چاندنی راتوں والے دنوں میں ہی ہوا کرتی تھی (آستر باب ۹ آیت ۲۲ تا۳۲) صحف قدیمہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ماہ کی چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو بھی یہودیوں کو سوختنی قربانی منانے کا حکم تھا اور اُسے سال بھر کی اور دائمی قربانی کے نام سے موسوم کرتے تھے۔( گفتی باب ۲۸ آیت ۱۵ تا ۱۹) اور ہندؤوں میں بھی اکاوشی کے برت انہی دنوں میں رکھے جاتے ہیں۔علاوہ ازیں یہود میں ہر ماہ کے پہلے سوموار دوسرے سوموار اور جمعرات کا روزہ بھی رکھا جاتا تھا۔اُن عربوں میں جو یہودی مذہب سے متاثر تھے اُن کے روزوں کے رکھے جانے کا ذکر اسلامی روایات میں آیا ہے اور زمانہ جاہلیت میں روزہ عربوں کے مختلف قبائل میں کسی نہ کسی شکل میں پایا جاتا تھا جو