صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 658 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 658

صحيح البخاری جلد۳ ۶۵۸ ٣٠ - كتاب الصوم جیسے اہم فریضہ کو بھی خوبی سے ادا کرتے تھے۔عبادت کا تعلق صرف صوم وصلوٰۃ ہی سے نہیں بلکہ حقوق النفس اور حقوق العباد کی ادائیگی سے بھی ہے کہ اُن میں اللہ تعالیٰ کی ہدایات کی پیروی کی جائے اور ایک فرض دوسرے فرض کی ادائیگی میں حارج نہ ہو بلکہ اُن میں تناسب قائم رکھنا ضروری ہے۔یہ وہ صراط مستقیم ہے جس سے سعادت دنیوی اور اخروی وابستہ ہے۔خود حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص کو بھی بالآ خر تجربے کے بعد اقرار کرنا پڑا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت ہی قابل عمل تھی اور اُن کو عبادات میں تشدد سے کام نہیں لینا چاہیے تھا۔عملی نتائج ہی دراصل کسی حکم کی صحت و سقم کے بارے میں اعلیٰ درجے کی شہادت ہیں۔مذکورہ بالا دوابواب ( نمبر ۵۸ ۵۹ ) کا عنوان بلا خبر ہے۔جس سے ظاہر ہے کہ امام بخاری کے نزدیک در اصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہی قابل عمل ہے۔حضرت داؤد علیہ السلام کا روزہ اُن کے ساتھ مخصوص تھا اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کو جو آپ نے اجازت دی، وہ اُن کے ساتھ مخصوص تھی۔ایسے مخصوص حالات کی بناء پر مسائل شریعت کی بنیاد بغیر قید و شروا نہیں رکھی جا سکتی۔بَاب ٦٠ : صِيَامُ الْبِيْضِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ چاندنی راتوں کے دنوں میں روزے یعنی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخ کو روزہ رکھنا ۱۹۸۱ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا :۱۹۸۱ ابو معمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالوارث عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ قَالَ ( بن سعيد) نے ہمیں بتایا۔ابوالتیاح ( یزید بن حمید ) نے حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ہم سے بیان کیا، کہا: ابوعثمان (عبدالرحمن نہدی) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے رضي اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَوْصَانِي خَلِيْلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ، صِيَامٍ مجھے بتایا۔انہوں نے کہا: میرے جانی دوست صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی مجھے تاکید فرمائی ہے۔یعنی ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَكْعَتَي ہر مہینے میں تین روزے اور دو رکعت ضحی (چاشت) الضُّحَى وَأَنْ أُوْتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ۔کی ، اور یہ کہ میں سونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کروں۔اطرافه: ۱۱۷۸۔تشریح: صِيَامُ الْبيْضِ : اس باب کے تعلق میں شارحین حدیث نے سوال اٹھایا ہے کہ زیر عنوان روایت میں چاندنی راتوں کے روزے کا ذکر نہیں بلکہ ہر ماہ صرف تین روزے رکھنے کا ارشاد ہے۔امام بخاریؒ نے معنو نہ مسئلہ کہاں سے اخذ کیا ہے؟ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ دراصل بعض دوسری روایتوں میں ان روزوں کا ذکر آتا ہے جن کی صحت و سقم امام موصوف کے مد نظر ہے (فتح الباری جز ۴ صفحہ ۲۸۷) جیسا کہ اُن کا طریق تحقیق کشمیہ منی کی روایت کے مطابق اس جگہ ایام البیض کے الفاظ ہیں (فتح الباری جز ہم صفحہ ۲۸۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔