صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 657 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 657

صحيح البخاري - جلد ٣ ۶۵۷ ٣٠ - كتاب الصوم ۱۹۸۰ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِيْنَ ۱۹۸۰: اسحاق بن شاہین واسطی نے ہم سے بیان کیا الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ که خالد بن عبد اللہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے خالد حذاء خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ سے، انہوں نے ابو قلابہ سے روایت کی۔انہوں نے أَخْبَرَنِي أَبُو الْمَلِيْحِ قَالَ دَخَلْتُ کہا: ابوا ملیح نے مجھے خبر دی، کہا: تمہارے باپ کے مَعَ أَبِيْكَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَنَا ساتھ میں حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس آیا تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میرے روزوں کا ذکر کیا گیا تو آپ میرے پاس آئے۔ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي فَدَخَلَ عَلَيَّ فَالْقَيْتُ لَهُ میں نے آپ کے لئے چھڑے کی ایک تو شک بچھائی، وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيْفٌ فَجَلَسَ جس میں کھجور کا ریشہ بھرا ہوا تھا۔آپ زمین پر بیٹھ عَلَى الْأَرْضِ وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ بَيْنِي گئے اور وہ تو شک میرے اور آپ کے درمیان رہی۔وَبَيْنَهُ فَقَالَ أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ آپ نے فرمایا: کیا ہر مہینے میں تین دن روزے تمہیں ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ کافی نہیں ہیں؟ (حضرت عبداللہ نے ) کہا: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ! ( مجھ میں اس سے زیادہ کی طاقت ہے ) فرمایا: پانچ۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ تِسْعًا قُلْتُ يَا (اس سے زیادہ۔) آپ نے فرمایا: سات (سہی۔) رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِحْدَى عَشْرَةَ ثُمَّ قَالَ میں نے کہا: یا رسول اللہ! (اس سے زیادہ۔) آپ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَوْمَ نے فرمایا: تو۔میں نے کہا: یا رسول اللہ! (اس سے فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ شَطْرَ زیادہ) فرمایا: گیارہ۔پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے الدَّهَرِ صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا۔فرمایا: حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں ، یعنی نصف زمانہ۔ایک دن روزہ خَمْسًا قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ سَبْعًا رکھو اور ایک دن نہ رکھو۔اطرافه: ۱۱۳۱، ۱۱۰۲، ۱۱۵۳، ۱۹۷۱ ، ۱۹۷۵، ۱۹۷۶، ۱۹۷۷، ۱۹۷۸، ۱۹۷۹، تشریح: ٥، ٦١٣٤، ٦٢٧٧۱۹۹ ،۵۰۰، ۵۰۰۳ ،۵۰۵۲ ،۳۴۲۰ ،۳۴۱۹ ،۳۱۸ صَوْمُ دَاوَدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ : یہ دونوں باب بھی سابقہ ابواب کے مضمون کی تائید میں قائم کئے گئے ہیں کہ حضرت داؤد علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن نہ رکھتے اور اس کے ساتھ وہ جہاد فی سبیل اللہ