صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 51
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۱ ٢٤ - كتاب الزكاة ١٤٢٩ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ قَالَ :۱۴۲۹ ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: حماد بن حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ وَسَلَّمَ ۔ علیہ وسلم سے سنا۔ ح وَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ اور عبد اللہ بن مسلمہ نے بھی ہمیں بتایا۔ انہوں نے مَّالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ مالک سے، مالک نے نافع سے، نافع نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ الله نے؛ جبکہ آپ منبر پر تھے اور آپ نے صدقہ وَذَكَرَ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ وَالْمَسْأَلَةَ کرنے اور سوال سے بچنے اور سوال کرنے کا ذکر کیا؟ الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى فَالْيَدُ فرمایا: اونچا ہاتھ نیچے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔ اونچا الْعُلْيَا هِيَ الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَى هِيَ ہاتھ تو وہی ہے جو خرچ کر رہا ہو اور نیچا ہاتھ وہ ہے جو السَّائِلَةُ۔ سوال کر رہا ہو۔ تشريح : لَا صَدَقَةَ إِلَّا عَنْ ظَهْرِ غِنی: فقہاء کے درمیان اس بارے میں بھی اختلاف ہوا۔ اختلاف ہوا ہے کہ آیا محتاج یا مقروض ہونے کی حالت میں صدقہ دینا جائز ہے یا نہیں؟ یں؟ باب کا عنوان حضرت ابوہریرہ حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت سے لیا گیا ہے جو نمبر ۱۴۲۶ کے تحت درج ہے۔ اس عنوان سے اسی اختلاف کی طرف اشارہ ہے۔ امام احمد بن حنبل نے بھی یہ روایت بایں الفاظ نقل کی ہے: خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنی ۔ (مسند احمد بن حنبل، جز ۲۰ صفحه ۲۷۸) عنوان باب ہی میں ایک دوسری حدیث سے وضاحت کی گئی ہے کہ احتیاج سے مراد اپنی اور اپنے کنبے کی احتیاج اور مقروض ہونا ہے اور یہ کہ صدقہ میں زکوۃ اور عتق (یعنی غلاموں کی آزادی) اور ہبہ شامل ہیں ۔ وَهُوَ رَدُّ عَلَيْهِ یعنی اگر قرض خواہ دعوی کرے تو شریعت قاضی کو اختیار دیتی ہے کہ اس کا صدقہ واپس کر دے۔ تا کہ وہ پہلے قرض ادا کرے۔ کیونکہ قرضے کا حق صدقہ کے حق پر مقدم ہے۔ جن فقہاء نے صدقے کو حق اللہ یعنی عبادت قرار دیا ہے وہ قرض کی حالت میں بھی صدقہ دینا ضروری سمجھتے ہیں۔ عنوان باب میں تین روایتیں نقل کر کے امام بخاری نے لا صَدَقَةَ إِلَّا عَنْ ظَهْرِ غِنی کے مفہوم کو مقید کر دیا ہے اور حضرت ابوبکر اور انصار کی مثال دے کر واضح کیا ہے کہ قناعت اور صبر کے ساتھ بھوک اور تنگ دستی کی تکلیفوں کو برداشت