صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 653
صحيح البخاری جلد ٣ ۶۵۳ ٣٠ - كتاب الصوم بَابِ ٥٧ : حَقُّ الْأَهْلِ فِي الصَّوْمِ روزے میں بیوی کا حق ہے رَوَاهُ أَبُو جُحَيْفَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله ابو حنیفہ ( وہب بن عبد اللہ ) نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت نقل کی ہے۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔أَخْبَرَهُ هُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُوْلُ بَلَغَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَسْرُدُ الصَّوْمَ رَضِيَ :۱۹۷۷ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيّ ۱۹۷۷ : عمرو بن علی ( فلاس) نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ابو عاصم نے ہمیں ابن جریج سے خبر دی۔(انہوں نے کہا :) سَمِعْتُ عَطَاءً أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ الشَّاعِرَ میں نے عطاء ( ابن ابی رباح) سے سنا کہ ابو العباس شاعر نے اُن کو خبر دی۔انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر وصل سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ نبی ﷺ کو میرے متعلق اطلاع پہنچی کہ میں لگا تار روزے رکھتا ہوں اور رات بھر نماز پڑھتا ہوں تو آپ نے مجھے بلا بھیجا یا میں خود آپ سے وَأُصَلِّي اللَّيْلَ فَإِمَّا أَرْسَلَ إِلَيَّ وَإِمَّا لَقِيتُهُ ما تو آپ نے فرمایا: کیا مجھے یہ نہیں بتایا گیا کہ تم روزہ فَقَالَ أَلَمْ أُخْبَرُ أَنَّكَ تَصُوْمُ وَلَا تُفْطِرُ رکھتے ہو اور افطار نہیں کرتے اور نماز پڑھتے رہتے ہو وَتُصَلِّي فَهُمْ وَأَفْطِرْ وَقُمْ وَنَمْ فَإِنَّ اور سوتے نہیں؟ ایسا نہیں چاہیے۔) روزہ بھی رکھو اور لِعَيْنَيْكَ عَلَيْكَ حَظًّا وَإِنَّ لِنَفْسِكَ افطار بھی کرو۔عبادت بھی کرو اور سود بھی، کیونکہ تمہاری وَأَهْلِكَ عَلَيْكَ خُظًّا قَالَ إِنِّي لَأَقْوَى آنکھوں کا بھی تم پرحق ہی ہے اور تمہارے نفس اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق * واجب ہے۔حضرت عبداللہ نے لِذَلِكَ قَالَ فَصُمْ صِيَامَ دَاوُدَ عَلَيْهِ کہا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔آپ السَّلَامُ قَالَ وَكَيْفَ قَالَ كَانَ يَصُومُ نے فرمایا: تو پھر تم حضرت داؤد علیہ السلام کی طرح روزے نے يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَا قَی قَالَ رکھو۔انہوں نے کہا: وہ کیسے تھے؟ آپ نے فرمایا: ایک مَنْ لِي بِهَذِهِ يَا نَبِيَّ اللهِ قَالَ عَطَاء لَا دن روزہ رکھتے اور ایک دن نہ رکھتے۔جب دشمن سے أَدْرِي كَيْفَ ذَكَرَ صِيَامَ الْأَبَدِ قَالَ مقابلہ کرتے تو بھاگتے نہ تھے۔حضرت عبداللہ نے کہا: فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں ان دونوں جگہ لفظ حظا ہے۔(فتح الباری جز پہ صفحہ (۲۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔