صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 654
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۵۴ ٣٠ - كتاب الصوم النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَامَ مَنْ اے اللہ کے نبی ! کون ہے جو مجھے اس میں مدد دے؟ (یعنی میں بے بس ہوں ) عطاء نے کہا: میں نہیں جانتا کہ صَامَ الْأَبَدَ مَرَّتَيْنِ۔ آپ نے ہمیشہ کے روزے کا ذکر کن الفاظ میں فرمایا تھا۔ نبی ﷺ نے یہ تو دو دفعہ فرمایا تھا کہ جس نے ہمیشہ کا روزہ رکھا ، اُس نے کوئی روزہ نہ رکھا۔ اطرافه: ۱۱۳۱، ۱۱۵۲ ، ۱۱۵۳، ۱۹۷۴ ، ۱۹۷۵، ۱۹۷۶، ۱۹۷۸، ۱۹۷۹، ۱۹۸۰، ٦١٣٤، ٦٢٧٧ ،۵۱۹۹ ،۵٥٠٥٣، ٠٥٤ ،۵۰۵۲ ،۳۴۲۰ ، ۳۴۱۹ ، ۳٤١٨ : تشریح : صوم الدهر : باب ۳ میں مذکورہ کیفیت صوم وصلوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کی خارق عادت ہے جو انتہائی عشق الہی پر دلالت کرتی ہے۔ یہ حالت نہ تکلف سے حاصل ہو سکتی ہے نہ کوشش وغیرہ سے بلکہ فضل خداداد سے۔ باب نمبر ۵۳ کی روایات سے ظاہر ہے کہ آپ نے اپنے جسم کو اس کے حقوق سے محروم نہیں رکھا۔ اسی تسلسل میں یکے بعد دیگرے چار ابواب قائم کئے گئے ہیں اور ان میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی عبادت اس بات کا نام نہیں کہ جسم کو معطل کر دیا جائے اور گھر یلو اور اجتماعی تعلقات منقطع کر دیئے جائیں۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص سے متعلق جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا لیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ وہ رات دن صوم و صلوۃ میں مشغول رہتے ہیں تو آپ نے اُن کو نصیحت فرمائی جس پر انہوں نے اپنی عبادت میں کمی تو کی مگر حالت اعتدال پر قائم نہ رہ سکے اور نتیجہ یہ ہوا کہ آخر عمر میں اُن کو اپنے اس مبالغہ آمیز زہد کا خمیازہ بھگتنا پڑا اور بالانا ہ بھگتنا پڑا اور بالالتزام اپنی یہ عبادتیں جاری نہ رکھ سکے۔ روایت نمبر ۱۹۷۵ کے الفاظ سے جو مفصل ہے معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت متعدد سندوں سے مروی ہے، کہیں مختصر کہیں مفصل ۔ ہر جگہ موقع محل کی مناسبت سے کوئی نہ کوئی مسئلہ روایت سے مستنبط کیا گیا ہے۔ اس تعلق میں کتاب التهجد باب ۲۰ روایت نمبر ۱۱۵۳ بھی دیکھئے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ مروی ہیں: هَجَمَتْ عَيْنُكَ۔ روایت نمبر ۱۹۷۹ (زیر باب ۵۹) میں بھی یہی الفاظ ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار سے زیادہ حضرت عبداللہ بن عمرو کو نصیحت فرمائی اور انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت کا پاس تھا مگر وہ اس بارے میں قسم کھا چکے تھے جبکہ اُن کے والد حضرت عمرو بن عاص نے بھی انہیں باصرار سمجھایا کہ عبادت میں ایسا تشد د نقصان دہ ہوگا اور جب باز نہیں آئے تو اُن کے والد نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۲۷۷ شرح باب ۵۵) باب ۵۵ اور ۵۷ کے درمیان باب صَوْمُ الدَّهْرِ قائم کیا گیا ہے اور دائی روزے کے جواز یا عدم جواز کے بارے میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کوئی معین فیصلہ نہیں کیا۔ بعض شارحین کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی نصیحت حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کے لئے ہی مخصوص ہو۔ اس لئے اس واقعہ سے کوئی مسئلہ معین صورت میں مستنبط نہیں کیا جا سکتا۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۲۸۰ شرح باب (۵۶) امام احمد بن حنبل اور ابن خزیمہ وغیرہ نے بعض روایتیں مرفوعا نقل کی ہیں جن کے یہ الفاظ ہیں : یہ الفاظ ہیں : مَنْ صَامَ الدَّهْرَ