صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 650
صحيح البخاری جلد ٣ ۶۵۰ بَاب ٥٤ : حَقُّ الضَّيْفِ فِي الصَّوْمِ روزے میں مہمان کا حق ہے ٣٠ - كتاب الصوم ١٩٧٤: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ۱۹۷۴: اسحاق بن راہویہ ) نے ہم سے بیان کیا کہ هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيْلَ حَدَّثَنَا عَلِيٌّ بارون بن اسماعیل نے ہمیں خبر دی کہ علی بن مبارک) حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ نے ہمیں بتایا۔سکی ( بن ابی کثیر ) نے ہم سے بیان قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ کیا، کہا: ابوسلمہ نے مجھے بتایا۔انہوں نے کہا: حضرت الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ دَخَلَ عبد الله بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے مجھ سے بیان عَلَيَّ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کیا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے۔فَذَكَرَ الْحَدِيثَ يَعْنِي إِنَّ لِزَوْرِكَ پھر ساری حدیث کا ذکر کیا۔یعنی ( آپ نے فرمایا :) عَلَيْكَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا تمہارے ملاقات کرنے والے مہمان کا بھی تم پر حق فَقُلْتُ وَمَا صَوْمُ دَاوُدَ قَالَ نِصْفُ ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے تو میں نے پوچھا: حضرت داؤدعلیہ السلام کے روزے کیسے تھے؟ آپ نے الدهر۔فرمایا: آدھا زمانہ (یعنی ایک دن روزہ ایک دن افطار ) اطرافه: ۱۱۳۱، ۱۱۵۲، ۱۱۰۳، ۱۹۷۵، ۱۹۷۶ ، ۱۹۷۷ ، ۱۹۷۸، ۱۹۷۹، ۱۹۸۰، ،٥، ٦١٣٤، ٦٢٧٧۱۹۹ ،5054 ،٥٠٥، ٥٠٥٣۲ ،۳۴۲۰ ،۳۴۱۹ ،۳٤١٨ بَاب ٥٥ : حَقُّ الْجِسْمِ فِي الصَّوْمِ روزے میں جسم کا حق ہے ١٩٧٥ : حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا ۱۹۷۵ (محمد ) ابن مقاتل نے ہم سے بیان کیا۔عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ عبدالله بن مبارک) نے ہمیں خبر دی کہ اوزاعی نے حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: یحی بن کثیر نے مجھ سے حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بیان کیا، کہا: ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے مجھے بتایا، کہا: قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے مجھ