صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 649
صحيح البخاری جلد ٣ ۶۴۹ ٣٠ - كتاب الصوم ۱۹۷۳ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ۱۹۷۳ : محمد بن سلام ) نے مجھ سے بیان کیا۔ابوخالد أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ احمد نے ہمیں خبر دی کہ حمید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا اللهُ عَنْهُ کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نبی علیہ کے رَضِيَ عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روزوں کی نسبت پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جب میں فَقَالَ مَا كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَرَاهُ مِنَ چاہتا کہ آپ کو اس مہینہ میں روزہ دار دیکھوں تو آپ کو روزہ دار ہی دیکھتا اور جب کہیں میں آپ کو بغیر روزہ الشَّهْرِ صَائِمًا إِلَّا رَأَيْتُهُ وَلَا مُفْطِرًا إِلَّا کے دیکھنا چاہتا تو اُسی حالت میں دیکھتا اور جب کسی رَأَيْتُهُ وَلَا مِنَ اللَّيْلِ قَائِمًا إِلَّا رَأَيْتُهُ وَلَا رات میرا خیال ہوتا کہ آپ نماز پڑھ رہے ہوں گے تو نَائِمًا إِلَّا رَأَيْتُهُ وَلَا مَسِسْتُ خَزَّةً وَلَا اسی حالت میں دیکھتا اور جب یہ خیال ہوتا کہ آپ حَرِيْرَةً أَلْيَنَ مِنْ كَفَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّی اس وقت سوئے ہوئے ہوں گے تو اسی طرح دیکھتا، اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا شَمِمْتُ مِسْكَةٌ اور میں نے نہ کوئی پشم اور نہ ریشم رسول اللہ صلی اللہ وَلَا عَبِيرَةً أَطْيَبَ رَائِحَةٌ مِنْ رَائِحَةِ عليہ وسلم کی تھیلی سے زیادہ ملائم دیکھا اور نہ کوئی مشک رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔اور نہ عبر سونگھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو اطرافه ۱۱٤١، ۱۹۷۲، ٣٥٦١۔سے زیادہ اچھی خوشبو والی ہو۔تشریح: مَا يُذْكَرُ مِنْ صَوْمِ النَّبِيِّ عَل وَاقْطَارِهِ : یہ باب بھی سابقہ مضمون یعنی نفلی روزوں کے تعلق ہی میں ہے۔مندرجہ روایتوں سے واضح ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سوائے رمضان کے کسی اور مہینے کو روزوں کے لئے مخصوص نہیں فرماتے تھے اور نہ آپ کے لیل و نہار میں سے کوئی خاص وقت نوافل کے لئے مخصوص تھا بلکہ سارے اوقات میں آپ کی عبادت کچھ اس طرح منقسم تھی کہ دیکھنے والوں کو حیرت ہوتی اور یوں معلوم ہوتا کہ آپ کی نماز اور روزہ کی عبادتیں شان سروری کا نمونہ ہیں۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: میری آنکھیں تو سوتی ہیں مگر دل نہیں سوتا۔( روایت نمبر ۸۵۹، ۱۱۴۷) اس باب کی پہلی روایت میں آپ کے روزوں کی اور دوسری اور تیسری روایت میں روزہ اور نماز کی دوامی کیفیت کا صحیح صحیح نقشہ پیش کیا گیا ہے۔دوسری روایت میں سلیمان کے قول کا جو حوالہ دیا گیا ہے؟ وہ باب کی تیسری روایت میں دیکھئے جو ابو خالد سے موصولاً منقول ہے۔ان کا نام سلیمان بن حبان ہے نہ کہ سلیمان بن بلال۔(فتح الباری جز ۴۰ صفحه ۲۷۵)