صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 647 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 647

صحيح البخاری جلد۳ ٣٠ - كتاب الصوم برات کے معنی قسمت ہیں۔پنجاب سے بنگال تک یہ لفظ قسمت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔یہ بدعت عراق میں سجی بن خالد برمکی کے زمانہ میں ایران سے داخل ہوئی جبکہ وہ آذربائیجان کے حاکم تھے اور پھر ہارون الرشید کے وزیر ہوئے۔چنانچہ جب علامہ ابن دحیہ کو اس کا علم ہوا تو وہ ملک کامل (۱۳۴۵ھ) سے ملے اور انہوں نے اس بدعت کا ذکر کیا۔آخر اس نیک بادشاہ کے حکم سے مصر کے تمام صوبہ جات میں اس رسم کا قلع قمع کیا گیا۔(عمدۃ القاری جز ءا اصفحہ ۸۳۸۲) غرض شعبان کی فضیلت کے بارے میں اس قسم کی روایات رڈ کرنے کی غرض سے مذکورہ بالا باب قائم کیا گیا ہے اور ایسی تمام غیر مستند اور کمز ور روایتیں نظر انداز کر دی گئی ہیں۔مگر باوجود اس کے جائے تعجب ہے کہ ہمارے ملک میں بھی شب برات منائی جاتی ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس رات مذکورہ بالا طریق سے جو دعا کی جائے گی وہ قبول ہوگی اور اللہ تعالیٰ کہے گا: مانگ تجھے دیا جائے گا اور تیرے سارے گناہ بخشے جائیں گے۔آدمی کے ہر بچے کی نیک و بد قسمت کا فیصلہ اس رات کیا جاتا ہے۔اس باب کے تحت صرف دو مستند روایتیں نمبر ۹۷۰،۱۹۲۹ نقل کی گئی ہیں۔پہلی روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نفلی روزے رکھنے کا ذکر ہے کہ سوائے رمضان کے کسی مہینہ میں بھی آپ نے پورے روزے نہیں رکھے اور دوسری روایت میں یہ ذکر ہے کہ شعبان کا سارا مہینہ روزے رکھے۔دونوں باتوں میں بظاہر تضاد ہے۔اس بارے میں امام ابن حجر نے جو تو جیہ کی ہے وہ معقول ہے اور اُس سے یہ تضاد دُور ہو جاتا ہے۔یعنی سفر میں جس رمضان کے روزے چھوٹ گئے تھے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان میں رکھے (فتح الباری جزء پہ صفہ ۲۷۳۲۷۲) اور آپ کی عادت تھی کہ جب آپ کوئی عبادت کرتے تو اُس پر مداومت فرماتے۔آپ کی اسی پاک عادت سے متعلق روایت نمبر ۱۹۷۰ کے آخر میں ذکر کیا گیا ہے اور شعبان میں یہ کثرت شعبان کی کسی خصوصیت کی وجہ سے نہ تھی۔اس تعلق میں کتاب الرقاق باب ۱۸ بھی دیکھئے۔دوسری روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی دو اور روایتوں کا حوالہ دیا گیا ہے جس سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں اپنی طاقت اور مداومت عمل ملحوظ رکھنی چاہیے۔اس تعلق میں کتاب التهجد باب ۱۸ روایت نمبر ۱۱۵۱، کتاب الإیمان باب ۳۲ روایت نمبر ۴۳ بھی دیکھئے۔اہل عراق کا زردشتیوں کے رسم و رواج سے متاثر ہونا یا اُسے اختیار کرنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔خود ہمارے ملک میں دیوالی وغیرہ ہندوانہ رسوم اور پیدائش، شادی و غمی وغیرہ کی رسوم سے مسلمان جس قدر متاثر ہیں وہ محتاج بیان نہیں۔انگریزوں کی حکومت کے زمانہ میں اُن کی تقلید کی جاتی تھی۔مشار الیہ موضوع روایت کا حضرت علی کی طرف منسوب کیا جانا بھی اس کے ایرانی ماخذ ومنبع کی غمازی کرتا ہے۔