صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 646
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۴۶ ٣٠ - كتاب الصوم ۱۹۷۰ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ۱۹۷۰ معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ہشام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کچی سے بچی نے أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حَدَّثَتْهُ ابوسلمہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے قَالَتْ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اُن سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا أَكْثَرَ مِنْ شَعْبَانَ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے نہیں رکھتے وَكَانَ يَصُوْمُ شَعْبَانَ كُلَّهُ وَكَانَ يَقُولُ تھے۔ آپ شعبان کا سارا سارا مہینہ روزے ر۔ ے رکھتے اور فرمایا کرتے تھے: اُتنا ہی عمل کرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُوْنَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا کیونکہ اللہ تعالیٰ تو نہیں اُکتاتا۔ تم ہی اُکتا جاؤ گے۔ يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوْا وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پیاری نماز وہ تھی النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دُوْوِمَ جو ہمیشہ پڑھی جائے اگر چہ وہ تھوڑی ہی ہو، اور جب عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّتْ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً آپ کوئی (نفل) نماز پڑھتے تو آپ اُسے ہمیشہ ہی دَاوَمَ عَلَيْهَا ۔ اطرافة: ١٩٦٩، ٦٤٦٥۔ پڑھا کرتے۔ تشریح : صَوْمُ شَعْبَانَ : شعبان کا مہینہ رجب اور رمضان کے درمیان ہے۔ یہ نام شعب سے مشتق ہے۔ جس کے معنی ہیں: متفرق ہونا۔ اسی مہینے میں چونکہ قبائل عرب مختلف اغراض سے دور و نزدیک کے علاقوں میں منتشر ہو جاتے تھے۔ اس لئے اس مہینے کا نام شعبان رکھا گیا ۔ (عمدۃ القاری جزءا صفحه ۸۲) ترندی، ابن ماجه و غیره نے بعض روایتیں نقل کی ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ جو پندرھویں شعبان کو روزہ رکھے گا اور آدھی رات کو چودہ رکعت نماز تہجد پڑھے گا اور پھر اگلے دن بھی روزہ دار ہو گا اور چودہ دفعہ سورہ فاتحہ پڑھے گا تو اُس نے گویا ہمیں مقبول حج کئے اور ہیں سال کے روزے رکھے۔ یہ الفاظ حضرت علی کی سند سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کئے گئے ہیں۔ ایسی روایتیں نہ صرف جمہور ہی نے رڈ کی ہیں بلکہ خودتر ندی اور ابن ماجہ نے بھی کمزور قرار دی ہیں۔ علاوہ ازیں یہ روایتیں مقطوع السند بھی ہیں اور امام جوزی رحمۃ اللہ علیہ نے ایسی روایتیں موضوعات میں شمار کی ہیں ۔ امام بخاری اور ابوزرعہ اور ابو حاتم نے بالا تفاق ثابت کیا ہے کہ ان راویوں کی میل ملاقات اور ایک دوسرے سے اُن کی سماعت قطعاً ثابت نہیں ۔ نصف شعبان کی رات کو چراغاں کرنے کے بارے میں بھی بعض روایات ہیں جو عند التحقیق وضعی ثابت ہوئی ہیں اور معلوم ہوا ہے کہ اس بدعت کا پس منظر ایران کے آتش پرست مجوسیوں کی رسم تھی جو وہ پندرھویں شعبان کو منایا کرتے تھے۔ برات ایرانی زبان کا لفظ ہے۔ جس کے معنی ہیں : قسمت ۔ شب برات یعنی قسمت کی رات۔ ہندی زبان میں بھی 72