صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 646 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 646

صحيح البخاری جلد ٣ ۶۴۶ ٣٠ - كتاب الصوم ۱۹۷۰: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ :۱۹۷۰ معاذ بن فضالہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ہشام نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سجی سے، سچجي نے أَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حَدَّثَتْهُ ابوسلمہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے قَالَتْ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اُن سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ يَصُوْمُ شَهْرًا أَكْثَرَ مِنْ شَعْبَانَ شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے نہیں رکھتے وَكَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ وَكَانَ يَقُولُ تھے۔آپ شعبان کا سارا مہینہ روزے رکھتے اور فرمایا خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا کرتے تھے اتنا ہی عمل کرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو نہیں اُکتا تا۔تم ہی اُکتا جاؤ گے۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پیاری نماز وہ تھی جو ہمیشہ پڑھی جائے اگر چہ وہ تھوڑی ہی ہو ، اور جب آپ کوئی (نفل) نماز پڑھتے تو آپ اسے ہمیشہ ہی يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوْا وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دُوْوِمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّتْ وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا۔اطرافه: ١٩٦٩، ٦٤٦٥۔تشریح : پڑھا کرتے۔: صَوْمُ شَعْبَانَ : شعبان کا مہینہ رجب اور رمضان کے درمیان ہے۔یہ نام شعب سے مشتق ہے۔جس کے معنی ہیں : متفرق ہونا۔اسی مہینے میں چونکہ قبائل عرب مختلف اغراض سے دور و نزدیک کے علاقوں میں منتشر ہو جاتے تھے۔اس لئے اس مہینے کا نام شعبان رکھا گیا۔(عمدۃ القاری جزء ۱ صفحه ۸۲) ترندی، ابن ماجه و غیره نے بعض روایتیں نقل کی ہیں ، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ جو پندرھویں شعبان کو روزہ رکھے گا اور آدھی رات کو چودہ رکعت نماز تہجد پڑھے گا اور پھر اگلے دن بھی روزہ دار ہوگا اور چودہ دفعہ سورہ فاتحہ پڑھے گا تو اُس نے گویا میں مقبول حج کئے اور ہمیں سال کے روزے رکھے۔یہ الفاظ حضرت علی کی سند سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کئے گئے ہیں۔ایسی روایتیں نہ صرف جمہور ہی نے رڈ کی ہیں بلکہ خود ترندی اور ابن ماجہ نے بھی کمزور قرار دی ہیں۔علاوہ ازیں یہ روایتیں مقطوع السند بھی ہیں اور امام جوزی رحمتہ اللہ علیہ نے ایسی روایتیں موضوعات میں شمار کی ہیں۔امام بخاری اور ابوزرعہ اور ابو حاتم " نے بالا تفاق ثابت کیا ہے کہ ان راویوں کی میل ملاقات اور ایک دوسرے سے اُن کی سماعت قطعاً ثابت نہیں۔نصف شعبان کی رات کو چراغاں کرنے کے بارے میں بھی بعض روایات ہیں جو عند التحقیق وضعی ثابت ہوئی ہیں اور معلوم ہوا ہے کہ اس بدعت کا پس منظر ایران کے آتش پرست مجوسیوں کی رسم تھی جو وہ پندرھویں شعبان کو منا یا کرتے تھے۔برات ایرانی زبان کا لفظ ہے۔جس کے معنی ہیں قسمت۔شب برات یعنی قسمت کی رات۔ہندی زبان میں بھی