صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 645
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۴۵ ٣٠ - كتاب الصوم آپ نے فرمایا : دَعَاكُمْ أَخُوكُمْ وَتَكَلَّفَ لَكُمْ ۔۔۔۔۔ أَفْطِرُ وَصُمٌ مَّكَانَهُ يَوْمًا إِنْ شِئْتَ ۔ (سنن الكبرى للبيهقي، كتاب الصيام، باب التخيير في القضاء إن كان صومه تطوعا ، جزء ۴ صفحه ۲۷۹) یعنی تمہارے بھائی نے تمہاری دعوت کی اور تمہاری خاطر تکلیف اُٹھائی ہے۔ روزہ افطار کر لو اور اس کی جگہ اگر چاہو تو اور را چا ہو تو اور روزہ رکھ لو۔ اس سے ظاہر ہے کہ نفلی روزے کی قضاء واجب نہیں۔ ترمذی اور نسائی وغیر ہم بزرگوں نے بعض ایسی روایتیں بھی نقل کی ہیں جن سے پایا جاتا ہے کہ اگر روزہ دار بغیر عذر روزہ چھوڑے تو اس پر قضاء لازم ہے۔ (سنن الترمذى، كتاب الصوم، باب ما جاء في ايجاب القضاء عليه) (السنن الكبرى للنسائي، كتاب الصيام، باب ما يجب على الصائم المتطوع اذا أفطر، جزء ۲ صفحه ۲۴۷) تفصیل کے لئے دیکھئے : فتح الباری جزء ۴ صفحه ۲۷۰، عمدۃ القاری جزءا اصفحه ۷۹،۷۸۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی زیر باب ۶۱ روایت نمبر ۱۹۸۲ حضرت انس سے نقل کی ہے کہ آنحضرت علی اُن کے ہاں آئے ، کھانا پیش کیا گیا۔ آپ کا عليه روزہ تھا اور آپ نے افطار نہیں کیا۔ ان مختلف روایتوں سے ظاہر ہے کہ روزہ چھوڑنا یا نہ چھوڑنا روزہ دار کی مرضی پر منحصر ہے۔ آداب مہمان نوازی میں یہ ادب بھی ہے کہ میزبان کے ساتھ کھانے میں شریک ہو اور مہمان کے قیام کے اثناء میں نفلی روزہ نہ رکھے۔ مسائل دینیہ پر عمل کی بنیاد بصیرت اور حالات کے صحیح موازنہ پر ہونی چاہیے کہ کسی جہت میں افراط و تفریط منشائے شریعت حقہ کے خلاف ہے۔ یہی سبق اس باب میں سکھایا گیا ہے۔ صلى الله بَاب ٥٢ : صَوْمُ شَعْبَانَ شعبان کے روزے رکھنا ١٩٦٩ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ۱۹۶۹ : عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، (کہا) أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابونضر سے، سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ابو نصر نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت عائشہ رضی قَالَتْ كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ وَسَلَّمَ يَصُوْمُ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ روزے رکھتے تھے تو ہم سمجھتے کہ آپ ختم ہی : پ ختم ہی نہ کریں گے وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُوْمُ فَمَا رَأَيْتُ اور روزہ چھوڑتے تو ہم سمجھتے کہ اب آپ روزہ نہیں رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکھیں گے اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا کہ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ إِلَّا رَمَضَانَ وَمَا آپ نے مہینہ بھر روزے رکھتے ہوں۔ رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ۔ کے ۔ اور میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ شعبان سے اطرافه: ١٩٧٠، ٦٤٦٥۔ ھے ہوں سوائے رمضان زیادہ کسی اور مہینے میں روزے رکھے ہوں۔