صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 644
صحيح البخاری جلد ٣ ٣٠ - كتاب الصوم وَسَلَّمَ بَيْنَ سَلْمَانَ وَأَبِي الدَّرْدَاءِ فَزَارَ انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے حضرت سلمان اور حضرت سَلْمَانُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَرَأَى أُمَّ الدَّرْدَاءِ ابودرداء کو آپس میں بھائی بھائی بنایا۔حضرت سلمان مُتَبَدِّلَةٌ فَقَالَ لَهَا مَا شَأْنُكِ قَالَتْ حضرت ابودر دائو سے ملنے گئے تو انہوں نے حضرت ہوئے ہیں۔انہوں نے اُن سے پوچھا: تمہارا یہ کیا حال أَخَوْكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي ام در دائر کو دیکھا کہ انہوں نے میلے کچیلے کپڑے پہنے الدُّنْيَا فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَصَنَعَ لَهُ ہے؟ وہ کہنے لگیں تمہارے بھائی ابو درداٹھ کو دنیا میں کوئی طَعَامًا فَقَالَ لَهُ كُلْ قَالَ فَإِنِّي صَائِمٌ قَالَ حاجت نہیں۔اتنے میں حضرت ابو دردار آئے تو انہوں مَا أَنَا بِآكِلِ حَتَّى تَأْكُلَ قَالَ فَأَكَلَ فَلَمَّا نے حضرت سلمان کے لئے کھانا تیار کیا اور اُن سے کہا: كَانَ اللَّيْلُ ذَهَبَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَقُوْمُ آپ کھائیں (اور) کہا: میں تو روزہ دار ہوں۔حضرت قَالَ نَمْ فَتَامَ ثُمَّ ذَهَبَ يَقُوْمُ فَقَالَ نَمْ سلمان نے کہا: میں اس وقت تک ہرگز نہ کھاؤں گا جب تک آپ نہ کھائیں۔(وہب نے ) کہا : حضرت فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَالَ سَلْمَانُ ابو دردار نے کھانا کھایا اور جب رات ہوئی تو حضرت قُم الْآنَ فَصَلِّيَا فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ إِنَّ ابودر دا کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔(حضرت سلمان لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ نے کہا: سوئیں۔تو وہ سو گئے۔پھر نماز کے لئے اُٹھنے حَقًّا وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَأَعْطِ كُلّ لگے تو انہوں نے کہا: ابھی سوئیں۔جب رات کا آخری ذِي حَقَّ حَقَّهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى الله حصہ ہوا تو حضرت سلمان نے کہا: اب اُٹھیں اور دونوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ لَهُ نے نماز پڑھی اور حضرت سلمان نے اُن سے کہا: تیرے رب کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے نفس کا بھی اور تیری النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے۔اس لئے ہر حق والے کو اُس کا حق دے۔حضرت ابودرداء نبی ﷺ کے پاس سَلْمَانُ۔اطرافه ٦١٣٩۔شریح آئے اور آپ سے اس بات کا ذکر کیا تو نبی ﷺ نے اُن سے فرمایا: سلمان نے سچ کہا ہے۔إِذَا كَانَ أَوْفَقَ لَهُ : یعنی بشر طیکہ نفلی روزہ چھوڑنے میں مصلحت کا تقاضا ہو ورنہ یونہی روزہ چھوڑ دینا جائز نہیں۔اس تعلق میں امام بیہقی نے حضرت ابو سعید خدری کی ایک روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی دعوت کی۔جب کھانا چنا گیا تو ایک شخص نے بوجہ روزہ دار ہونے کے کھانا کھانے سے معذرت کی تو