صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 643
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۴۳ ٣٠ - كتاب الصوم كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي أَبِيْتُ لِي مُطْعِمْ يُطْعِمُنِي تمہاری طرح نہیں ہے۔ میں ایسی حالت میں رات وَسَاقٍ يَسْقِيْنِ۔ اطرافه: ١٩٦٣۔ گزارتا ہوں کہ میرے لئے ایک کھلانے والا ہوتا ہے جو مجھے کھلاتا ہے اور ایک ساقی ہوتا ہے جو مجھے پلاتا ہے۔ تشريح : الوِصَالُ إِلَى السَّحَ : یہ باب بھی سابقہ مضمون کے تعلق میں ہی ہے۔ روایت نمبر ۹۶۷ : یہ ۱۹۶۷؛ روایت نمبر ۱۹۶۳ میں ایک دوسری سند سے گذر چکی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ جس کا کا حوالہ باب ۴۸ کے عنوان یا میں دیا گیا ہے ۔ (ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامِ إِلَى اللَّيْلِ) اس کے پیش نظر بوقت مغرب افطار کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی افطار تو کرلے، لیکن رات کا کھانا سحری تک ملتوی رکھے تو یہ اصطلاحی معنوں میں وصال کا روزہ نہیں کہلائے گا۔ امام ابن حجر نے ایسا روزه جائزہ زہ جائزہ قرار نہیں دیا۔ امام شافعی اور جمہور کا مذہب ئی اور جمہور کا مذہب بھی یہی ہے مگر امام مالک اور امام احمد بن حنبل وغیرہ نے حضرت ابو سعید خدری کی محولہ بالا روایت کے پیش نظر ایسا روزہ رکھنا درست قرار دیا ہے۔ ابن خزیمہ نے متضاد روایت میں مطابقت کی صورت یہ بتائی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے وصالی روزے مطلق منع فرمائے اور بعد میں سحری تک اجازت دی۔ ( فتح الباری جزء ۴ صفحه ۲۶۰، ۲۶۵-۲۶۶) (عمدۃ القاری جزءا اصفحہ ۷۶ ) اس بارہ میں ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اجازت اس تصریح کے ساتھ دی گئی ہو کہ وہ روزے منشائے شریعت کے خلاف ہیں جن سے مقصد یہ ہو کہ عمل کے زور سے رضائے الہی طلب کی جائے۔ باوجود اس تصریح کے اگر کوئی چاہے تو پھر سحری تک وصال کا روزہ رکھ سکتا ہے۔ رہبانیت کے دلدادہ عیسائیوں میں اس قسم کے روزے اور دیگر مشقت آمیز ریاضتیں تھیں اور ہندؤوں میں تو اُن سے زیادہ سخت اور جانکاہ مشقتیں تزکیہ نفس کی غرض سے ایجاد کی گئی ہیں کہ حیرت ہوتی ہے مگر باوجود اس کے وہ تزکیہ نفس سے محروم رہتے ہیں۔ بَاب ٥١ : مَنْ أَقْسَمَ عَلَى أَخِيهِ لِيُفْطِرَ فِي التَّطَوُّعِ وَلَمْ يَرَ عَلَيْهِ قَضَاءً إِذَا كَانَ أَوْفَقَ لَهُ جس نے اپنے بھائی کو قسم دی کہ وہ نفلی روزے کی حالت میں افطار کرے اور اُس پر قضا نہیں جبکہ افطار میں مصلحت کا تقاضا ہو ١٩٦٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۱۹۶۸ : محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ جعفر بن حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو عون نے ہمیں بتایا۔ ابوالعیس ( عقبہ بن عبداللہ ) نے ہم الْعُمَيْسِ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ سے بیان کیا۔ انہوں نے عون بن ابی حنیفہ سے عون أَبِيْهِ قَالَ آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے اپنے باپ ( وہب بن عبداللہ سوائی ) سے روایت کی کہ