صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 642 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 642

صحيح البخارى جلد ٣ ۶۴۲ ٣٠ - كتاب الصوم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی ﷺ سے مروی ہے۔آپ وَالْوِصَالَ مَرَّتَيْنِ قِيْلَ إِنَّكَ تُوَاصِلُ نے دو دفعہ فرمایا: وصال کے روزوں سے بچو۔(آپ قَالَ إِنِّي أَبِيْتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِيْن سے کہا گیا: آپ تو وصال کے روزے رکھتے ہیں۔فَاكْلَفُوْا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ۔آپ نے فرمایا: میں ایسی حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے سو تم اعمال اطرافه ١٩٦٥، ٦٨٥١ ۷۲٤٢، ۷۲۹۹ میں اتنی ہی تکلیف اُٹھاؤ جتنی طاقت رکھتے ہو۔فریح: وہ کتاب التمني باب ۹ : ما يجوز من اللو روایت نمبر ۷۲۴۱ میں آئے گی۔اُس میں یہ الفاظ ہیں : کو مُدَّ بِيَ الشَّهْرُ لَوَاصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ - اگر مہینہ لمبا ہوتا تو میں لگا تار روزہ وصال رکھتا تا وہ لوگ جو احکام کے بارے میں تکلف اور تشدد سے کام لیتے ہیں، انہیں نصیحت حاصل ہو اور وہ تکلف چھوڑ دیں۔روایت نمبر ۱۹۶۵ سے ظاہر ہے کہ اعمال صالحہ کی بجا آوری میں میانہ روی پسندیدہ ہے۔اس تعلق میں کتاب الایمان باب ۲۹ روایت نمبر ۳۹ بھی دیکھئے۔التَّنْكِيْلُ لِمَنْ أَكْثَرَ الْوِصَالَ : عنوانِ باب میں حضرت انس کی جس روایت کا حوالہ دیا گیا ہے بَابِ ٥٠ : الْوِصَالُ إِلَى السَّحَرِ سحری تک وصال کا روزہ رکھنا ١٩٦٧ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ :۱۹۶۷ ابراہیم بن حمزہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ يَزِيدَ عَنْ ( عبد العزيز بن ابی حازم نے مجھے بتایا۔انہوں نے یزید بن ہاد) سے، یزید نے عبداللہ بن خباب سے عبداللہ عَبْدِ اللَّهِ بْن خَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ سَمِعَ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: وصال کے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ روزے نہ رکھو تم میں سے جو چاہے کہ اپنے روزے کو لَا تُوَاصِلُوْا فَأَيُّكُمْ أَرَادَ أَنْ يُوَاصِلَ دوسرے روزے سے ملائے تو چاہیے کہ وہ افطار کے بعد تو فَلْيُوَاصِلْ حَتَّى السَّحَر قَالُوْا فَإِنَّكَ سحری تک کچھ نہ کھائے صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ تُوَاصِلُ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ لَسْتُ تو وصال کے روزے رکھتے ہیں۔فرمایا: میری حالت