صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 641
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۴۱ ٣٠ - كتاب الصوم باب ٤٩ : التَّنْكِيْلُ لِمَنْ أَكْثَرَ الْوِصَالَ وصال کے روزے کثرت سے رکھنے والے کو عبرت دلانا رَوَاهُ أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ وَسَلَّمَ۔ روایت کی۔ ١٩٦٥ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۱۹۶۵ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو ہمیں خبر دی ۔ زہری سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: ابوسلمہ سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ بن عبد الرحمن نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ نه صلى الله ۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللهِ ع نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے وصال کے روزے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فِي سے منع فرمایا تو مسلمانوں میں سے ایک شخص نے آپ الصَّوْمِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ کو کہا: یا رسول اللہ ! آپ تو وصال کے روزے رکھتے إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَأَيُّكُمْ ہیں۔ آپ نے فرمایا: میری مانند تم میں سے کون ہے؟ میں رات ایسی حالت میں گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے مِثْلِي إِنِّي أَبِيْتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِيْنِ کھلاتا ہے اور پلاتا ہے۔ جب وہ وصال کے روزے فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ رکھنے سے باز نہ آئے تو آپ نے اُن کے ساتھ ، ساتھ ایک وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ رَأَوُا دن وصال کا روزہ رکھا۔ پھر ایک دن اور وصال کیا۔ پھر الْهِلَالَ فَقَالَ لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ لوگوں نے عید کا چاند دیکھا تو آپ نے فرمایا: اگر چاند كَالتَّنْكِيْلِ لَهُمْ حِيْنَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا ۔ نکلنے میں تاخیر ہوتی تو میں اس سے زیادہ وصال کرتا، گویا اُن کو عبرت دلانے کے لیے جب وہ باز نہ آئے۔ اطرافة: ١٩٦٦ ، ٦٨٥١، ٧٢٤٢، ٧٢٩٩۔ ١٩٦٦ : حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ ١٩٦٦: يحي (بن موسیٰ) نے ہم سے بیان کیا کہ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ هَمَّامٍ أَنَّهُ سَمِعَ عبد الرزاق نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے معمر سے، انہوں أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ نے تمام سے روایت کی ۔ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ