صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 640
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۴۰ ٣٠ - كتاب الصوم علامہ ابن حجر کے نزدیک اگر ایسی روایات صحیح ہوں تو پھر وصال کا روزہ رکھنے میں کوئی تو اب نہیں مگر یہ ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال کا روزہ رکھا اور آپ نے خود تصریح فرمادی کہ یہ وصال کا روزہ آپ ہی کے لئے مخصوص ہے۔ چنانچہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی عنوانِ باب میں صراحت کی ہے کہ آپ کا صحابہ کو اس سے منع کرنا از روئے تحریم نہ تھا بلکہ بطور شفقت تھا۔ عبادات میں تعمق افراط و تفریط اور تکلیف و مشقت نا پسندیدہ امر ہے۔ اس تعلق میں کتاب الایمان تشریح ابواب ۲۹ ,۳۲ دیکھئے۔ إِنِّي أَبِيْتُ لِي مُطْعِمْ يُطْعِمُنِي وَسَاقٍ يَسْقِينِ : زیر بحث باب کی تینوں روایتوں کے الفاظ میں قدرے فرق ہے مگر مفہوم اُن کا ایک ہی ہے۔ پہلی روایت مختصر ہے، دوسری میں مُطْعِمْ وَ سَاقٍ ہے اور تیسری میں وضاحت ہے کہ یہ کھانا کھلانے والا اور پلانے والا میرا رب ہے جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی محبت وہ غذا ہے جس کے بغیر عارف ایک لمحہ زندہ نہیں رہ سکتا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسلامی اصول کی فلاسفی میں روحانی حالتوں کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- " پس یا د رکھنا چاہیے کہ اعلیٰ درجہ کی روحانی حالت انسان کی اس دنیوی زندگی میں یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ آرام پا جائے اور تمام اطمینان اور سرور اور لذت اُس کی خدا میں ہی ہو جائے۔ یہی وہ حالت ہے جس کو دوسرے لفظوں میں بہشتی زندگی کہا جاتا ہے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی - روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۳۷۸) پھر اسی مضمون کو ایک دوسری کتاب میں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیونکہ ہم نے اُس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اُس میں پائی۔ یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے اور یہ عمل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔ اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔ یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔ (کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۱ ۲۲ )