صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 639
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۳۹ ٣٠ - كتاب الصوم إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوَاصِلَ فَلْيُوَاصِلْ حَتَّى نہ رکھو تم میں سے جو چاہے سحری تک ہی وصال کرے۔ السَّحَرِ قَالُوْا فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ تو وصال کے روزے اللَّهِ قَالَ إِنِّي لَسْتُ كَهَيْتَتِكُمْ إِنِّي أَبِيْتُ رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: میری حالت تمہاری حالت جیسی نہیں۔ میں تو رات ایسی حالت میں گزارتا ہوں لِي مُطْعِمٌ يُطْعِمُنِي وَسَاقٍ يَسْقِيْنِ۔ کہ میرے لئے ایک کھلانے والا ہوتا ہے جو مجھے کھلاتا اطرافه: ١٩٦٧ ہے اور ایک پلانے والا جو مجھے پلاتا ہے۔ ١٩٦٤ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي ۱۹۶۴: عثمان بن ابی شیبہ اور محمد بن سلام ) نے ہم شَيْبَةَ وَمُحَمَّدٌ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ عَنْ سے بیان کیا۔ ان دونوں نے کہا : عبدہ نے ہمیں خبر هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ دی۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ نَهَى رَسُولُ اللهِ باپ سے، اُن کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ نے وصال سے منع فرمایا ہے، اُن پر نرمی کرنے کی رَحْمَةً لَّهُمْ فَقَالُوا إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ غرض سے صحابہ نے کہا: آپ تو وصال کے روزے إِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ إِنِّي يُطْعِمُنِي رَبِّي رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: تمہاری حالت میری وَيَسْقِيْنِ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لَمْ يَذْكُرْ حالت جیسی نہیں۔ مجھے تو میرا رب کھلاتا ہے اور پلاتا عُثْمَانُ رَحْمَةً لَّهُمْ۔ ہے۔ ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا: عثمان نے رَحْمَةً لَّهُمْ کے الفاظ کا ذکر نہیں کیا۔ تشریح۔ الوصال : افطار کے بعد کچھ کچھ کھایا جائےاوراس حالت میں حری کھائے بغیر روز در کرایا جائے۔ ایسے روزے کو وصال کا روزہ کہتے ہے ہیں ۔ - وَمَنْ قَالَ لَيْسَ فِي اللَّيْلِ صِيَام: یہ قول ابو سعید الخیر کا ابن سکن نے مرفوعاً نقل کیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں : إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكْتُبِ القِيَامَ بِاللَّيْلِ وَمَنْ صَامَ فَقَدْ تَعَلَّى وَلَا أَجْرَ لَهُ۔ اللہ تعالیٰ نے رات کے وقت روزہ فرض نہیں کیا ۔ جس نے روزہ رکھا تو اُس نے یقینا نا فرمانی کی اور ایسے روزے کا کوئی اجر نہیں۔ دولابی نے بھی یہی روایت عبادہ بن نسی کی سند سے نقل کی ہے۔ ترمذی کا قول ہے کہ انہوں نے امام بخاری سے اس حدیث کی بابت دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ میرے نزدیک ثابت نہیں کہ عبادہ نے ابو سعید سے یہ سنا ہو۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۲۵۸) (عمدۃ القاری جزءا اصفحہ اے )