صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 637 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 637

صحيح البخاري - جلد ٣ تشریح: ۶۳۷ ٣٠ - كتاب الصوم صَوْمُ الصّبْيَانِ : عنوانِ باب کے تحت جو روایت نقل کی گئی ہے اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں کو جو روزہ رکھوایا گیا وہ احکام رمضان نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔اہل مدینہ عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے جیسا کہ یہود رکھتے تھے۔(دیکھئے تشریح باب ا، روایت نمبر ۱۸۹۳) لیکن آیا رمضان کے روزے فرض ہونے کے بعد بھی بچوں کو روزہ رکھوایا گیا یا نہیں ؟ اس بارے میں چونکہ کوئی مستند روایت نہیں۔اس لئے عنوانِ باب میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کا حوالہ دیا گیا ہے جو سعید بن منصور رحمتہ اللہ علیہ نے موصول نقل کیا ہے۔اس روایت سے ظاہر ہے کہ صحابہ کرام بعد کو بھی بچوں کو روزہ رکھوایا کرتے تھے تا کہ بچپن ہی سے نیکی کی عادت اُن میں پیدا ہو۔ورنہ کمسن بچے احکام شریعت کے مکلف نہیں۔اس بارے میں جمہور کا یہی مذہب ہے کہ بچے جب تک جوان نہ ہو جائیں اُن پر روزہ واجب نہیں۔امام شافعی رحمہ اللہ علیہ و غیرہ نے دس بارہ سال کی عمر تجویز کی ہے جس میں بچوں پر روزہ واجب ہوتا ہے لیکن وجوب یا عدم وجوب کا تعلق اُن کی حالت صحت سے ہے۔(فتح الباری جز ۴۶ صفحہ ۲۵۶،۲۵۵) مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ انصاری عورتیں کمسن بچوں کو روزہ رکھواتیں اور ان کے روزے پر انہیں گڑیوں سے بہلایا کرتی تھیں مگر اُن کا یہ عمل حجت نہیں۔اس لئے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عنوانِ باب صَوْمُ الصَّبْيَانِ بغیر کسی خبر کے مطلق رکھا ہے۔ابن خزیمہ وغیرہ نے رزینہ سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ تھیں، روایت نقل کی ہے کہ عاشورہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دودھ پیتے معصوم بچوں کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالتے اور اُن کی ماؤں سے فرماتے کہ رات تک انہیں دودھ نہ پلایا جائے۔قرطبی کے نزدیک یہ روایت غریب ہے۔اس باب میں اس قسم کی کمزور روایتوں کی طرف بھی اشارہ کرنا مقصود ہے۔ان روایوں سے کم از کم یہ معلوم ہوتا ہے کہ عربوں میں عاشورہ کی پابندی اور اس دن روزہ کی عظمت پائی جاتی تھی حتی کہ دودھ پیتے بچوں کو بھی وہ اس میں شریک رکھتے تھے۔( فتح الباری جز ۴۰ صفحه ۲۵۶ ، ۲۵۷) (عمدۃ القاری جزء ۱ صفحه ۷۰،۶۹) بَاب ٤٨ : الْوِصَالُ بغیر سحری کھائے مسلسل روزے رکھنا وَمَنْ قَالَ لَيْسَ فِي اللَّيْلِ صِيَامٌ لِقَوْلِهِ اور جس نے کہا: رات کو روزہ نہیں ہوتا۔کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ : ثُمَّ أَتِمُّوا القِيَامَ إِلَى الَّيْلِ عزو جل فرماتا ہے: پھر رات تک روزہ پورا کرو۔اور (البقرة: ۱۸۸) وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى الله نبي صلى اللہ علیہ وسلم نے اس موقع سے منع فرمایا ہے؟ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ رَحْمَةً لَّهُمْ وَإِبْقَاء لوگوں کے لیے بطور شفقت کہ اُن کی طاقت محفوظ عَلَيْهِمْ وَمَا يُكْرَهُ مِنَ التَّعَمُّقِ۔رہے۔روزہ رکھنے میں غلو مکروہ ہے۔