صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 636
صحيح البخاري - جلد ٣ ۶۳۶ ٣٠ - كتاب الصوم امام بیہقی نے قضاء کے متعلق حضرت عمر کی متضاد روایتیں نقل کی ہیں۔مجاہد، حسن بصری اور اسحاق بن راہویہ کے نزدیک قضاء ضروری نہیں ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری جز ۲۰ صفحه ۲۵۵، عمدۃ القاری جزءا اصفحه ۶۹،۶۸۔امام بخاری نے عنوانِ باب کو شرطیہ رکھ کر قضاء صوم کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا بلکہ روایت نمبر ۱۹۵۹ کے آخر میں معمر کے قول کا حوالہ دیا ہے جن کے نزدیک قضاء نہیں۔ہشام کی مذکورہ بالا روایت سے بھی صاف طور پر معلوم نہیں ہوتا کہ صحابہ نے روزے کی قضاء کی ہو۔الفاظ بُد مِنْ قَضَاءِ راوی کا اپنا قیاس ہے۔جن سے پوچھا گیا تھا کہ آیا صحابہ نے روزہ قضاء کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کے سوا کیا چارہ تھا یعنی روزہ رکھا ہی ہوگا۔بَاب ٤٧ : صَوْمُ الصّبْيَانِ بچوں کا روزہ وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِنَشْوَانِ فِي اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رمضان میں ایک شخص رَمَضَانَ وَيْلَكَ وَصِبْيَانُنَا صِيَامٌ سے جو شراب کے نشے میں تھا، کہا: کم بخت !ہمارے تو فَضَرَبَهُ۔بچے بھی روزہ دار ہیں اور اُسے بڑی سزادی۔١٩٦٥ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا بِشْرُ :۱۹۶۰ مدد نے ہم سے بیان کیا کہ بشر بن مفضل ابْنُ الْمُفَضَّل عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ عَن نے ہمیں بتایا۔انہوں نے خالد بن ذکوان سے، خالد الربيع بِنْتِ مُعَوّذٍ قَالَتْ أَرْسَلَ النَّبِيُّ نے حضرت ربیع بنت معوذ سے روایت کی۔انہوں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ عَاشُورَاءَ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کی صبح کو انصار إِلَى قُرَى الْأَنْصَارِ مَنْ أَصْبَحَ مُفْطِرًا کی بستیوں میں کہلا بھیجا: جو آج صبح روزہ دار نہیں تو وہ اپنا باقی دن ( بغیر کھائے ) پورا کرے اور جس نے صبح روزہ رکھا ہو چاہیے کہ وہ روزہ رکھے۔وہ کہتے تھے: فَليَهُمْ قَالَ فَكُنَّا نَصُوْمُهُ بَعْدُ وَنُصَوّمُ ہم اس کے بعد عاشورہ کا روزہ رکھتے اور اپنے بچوں کو صِبْيَانَنَا وَنَجْعَلُ لَهُمُ اللَّعْبَةَ مِنَ الْعِهْنِ رکھواتے اور اُن کے لئے اون کا ایک کھلونا بنا دیتے۔فَإِذَا بَكَى أَحَدُهُمْ عَلَى الطَّعَامِ جب اُن میں سے کوئی کھانے کے لئے روتا تو ہم وہ أَعْطَيْنَاهُ ذَاكَ حَتَّى يَكُوْنَ عِنْدَ اُسے دے دیتے یہاں تک کہ اُس کے لئے افطار کا فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ وَمَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا الْإِفْطَارِ۔۔وقت ہو جاتا۔