صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 633
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۳۳ ٣٠ - كتاب الصوم قَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ لَوْ أَمْسَيْتَ قَالَ گھولو۔ اُس نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر آپ شام ہونے انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا قَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ دیں ۔ آپ نے فرمایا: اتر و اور ہمارے لئے ستو گھولو۔ عَلَيْكَ نَهَارًا قَالَ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا اُس نے کہا: یا رسول اللہ ! ابھی آپ کے لئے دن باقی فَنَزَلَ فَجَدَحَ ثُمَّ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ ہے۔ فرمایا: اتر و ہمارے لئے ستو گھولو۔ چنانچہ وہ اُترا أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ اور اُس نے ستو گھولے۔ پھر آپ نے فرمایا: جب تم رات کو دیکھو کہ ادھر سے آگئی ہے تو روزہ دار افطار کر چکا وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ ۔ اطرافه ١٩٤١، ١٩٥٥، 1958، ٥٢97۔ -------- اور اپنی انگلی سے آپ نے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا۔ ہی سے ہو۔ تشريح ۔ يَفْطِرُ بِمَا تَيَسَّرَ مِنَ الْمَاءِ أَوْ غَيْرِهِ: افطاری کے لئے یہ ضرور نہیں کہ وہ کھجوری۔ کھانے پینے کی جو شئے میسر ہو اُس سے روزہ افطار زہ افطار کر لیا جائے ۔ امام ابن حزم کے نزدیک کھجور بہتر ہے۔ اگر وہ نہ ملے تو پانی سے افطار کرنا ضروری ہے۔ ترمذی اور نسائی وغیرہ نے انہی معنوں میں کچھ روایتیں نقل کی ہیں جو کمزور ہیں اور امام بخاری نے وہ نظر انداز کر دی ہیں تفصیل کے لئے دیکھئے عمدۃ القاری جلدا اصفحه ۶۵ - فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۲۵۲۔ بَاب ٤٥ : تَعْجِيْلُ الْإِفْطَارِ افطار میں جلدی کرنا ١٩٥٧ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۱۹۵۷ : عبداللہ بن یوسف (تنیسی ) نے ہم سے أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بیان کیا کہ مالک نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابو حازم ( سلمہ بن دینار ) سے، ابوحازم نے حضرت سہل بن سعد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ۔ وسلم نے فرمایا: لوگ بھلائی میں رہیں گے جب تک کہ وہ افطار میں جلدی کریں گے۔ ١٩٥٨ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۱۹۵۸ : احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ ابو بکر حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنِ ابْنِ (بن عیاش ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلیمان سے، (ترمذی، کتاب الصوم، باب ما جاء ما يستحب عليه الإفطار) (السنن الكبرى للنسائي، كتاب الصيام، باب ما يستحب للصائم أن يفطر عليه ، جزء ۲ صفحه ۲۵۳)