صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 634
صحيح البخاری جلد ۳ ۶۳ ٣٠ - كتاب الصوم أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ سلیمان نے حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں سَفَرٍ فَصَامَ حَتَّى أَمْسَى قَالَ لِرَجُلٍ ایک سفر میں تھا تو آپ نے روزہ رکھا یہاں تک کہ انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي قَالَ لَوِ انْتَظَرْتَ جب شام ہوئی تو آپ نے ایک شخص سے فرمایا: اترو حَتَّى تُمْسِيَ قَالَ انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي إِذَا اور میرے لئے ستو گھولو۔ اُس نے کہا: کاش آپ انتظار رَأَيْتَ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ فرمائیں یہاں تک کہ شام ہو جائے۔ آپ نے فرمایا: اتر و اور میرے لئے ستو گھولو۔ جب تم رات کو دیکھو کہ وہ أَفْطَرَ الصَّائِمُ۔ اطرافه: ١٩٤١، 19٥٥، 1956، ٥٢97۔ ادھر سے آن پہنچی ہے تو روزے دار کا روزہ افطار ہو گیا۔ تشریح : تَعْجِيلُ الإفطار : سحری اور افطاری کے بارے میں صریح ارشاد کے باوجود بعض لوگ ؟ لوگ جس طرح سحری کا کھانا فجر سے رسے بہت پہلے کھا لیتے ہیں۔ اسی طرح بوقت افطار دیر کرتے ہیں، اس وہم سے کہ مبادا سورج کی روشنی باقی ہو، مسائل میں اس قسم کا تو ہم بیمار ذہنیت پر دلالت کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ ذہنیت جب بیمار ہو تو خیر اور شر میں تمیز اُٹھ جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے انسان رفتہ رفتہ بالآخر باقی بھلائیوں سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ یہ مراد ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد محولہ بالا کی: لَا يَزَالَ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ، شریعت کی حدود وہی شخص ملحوظ رکھتا ہے جسے عقل سلیم نصیب ہو۔ ابن حبان اور حاکم کی روایت کے یہ الفاظ ہیں : لَا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى سُنَّتِي مَا لَمْ تَنتَظِرُ بِفِطْرِهَا النُّجُومَ ۔ * یعنی میری امت اچھی حالت میں رہے گی جب تک لوگ افطاری کے لئے ستاروں کے نکلنے کا انتظار نہیں کریں گے۔ بعض شارحین کا خیال ہے کہ یہود اور نصاری کے نزدیک افطاری کا وقت وہ ہوتا جب ستارے نکلتے۔ ہو سکتا ہے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے مد نظر مذکورہ بالا روایت کی تصحیح ہو لیکن اس باب کی ایک اور غرض بھی معلوم ہوتی ہے اور وہ یہ کہ امام شافعی نے نے اپنی اپنی کتاب کتاب اُم اُم میں میں لکھا لکھا ہے ہے کہ کہ افطاری افطار میں جلدی کرنا مستحب ہے لیکن ہر حالت میں مکروہ نہیں ، سوائے اس کے کہ عمد ادیر کی جائے کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ مستحب کی ضد ہمیشہ مکروہ ہی ہو۔ بعض وقت پانی یا کوئی اور خوردنی چیز میسر نہیں ہوتی جس سے افطاری کی جائے تو اس حالت میں تا خیر استثنائی ہوگی ۔ ( فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۲۵۳) حيني الله محمد (صحیح ابن حبان، کتاب الصوم، باب الإفطار وتعجيله، ذكر العلة التي من أجلها كان يحب عليكم تعجيل الإفطار، روایت نمبر ۳۵۱۰ جزء ۸ صفحه ۲۷۷) (المستدرک علی الصحیحین، كتاب الصوم اجازة الصوم في السفر، جزء اول صفحه ۴۳۴)