صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 631 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 631

صحيح البخاری جلد ٣ ۶۳۱ بَاب ٤٣ : مَتَى يَحِلُّ فِطْرُ الصَّائِمِ روزہ دار کے افطار کا وقت کب ہوتا ہے؟ ٣٠ - كتاب الصوم وَأَفْطَرَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ حِيْنَ غَابَ حضرت ابوسعید خدری نے اُس وقت افطار کیا جب سورج کی ٹکیہ چھپ گئی۔قُرْصُ الشَّمْسِ۔١٩٥٤: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا :۱۹۵۴ حمیدی نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ (بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ہشام بن عروہ نے ہم سَمِعْتُ أَبِي يَقُوْلُ سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَبِيْهِ رَضِيَ اللهُ سے سنا۔وہ کہتے تھے: میں نے عاصم بن عمر بن خطاب عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے سنا کہ اُن کے باپ (حضرت عمر ) رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا وَأَدْبَرَ نے فرمایا کہ جب رات ادھر سے آ جائے اور دن النَّهَارُ مِنْ هَاهُنَا وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ اُدھر سے پیٹھ موڑ کر چلا جائے اور سورج ڈوب جائے تو روزہ دار افطار کر چکا۔فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ۔١٩٥٥ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ :۱۹۵۵ اسحاق ( بن شاہین ) واسطی نے ہم سے حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنِ الشَّيْبَانِي عَنْ عَبْدِ اللهِ بیان کیا کہ خالد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے (سلیمان) بْن أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا شیبانی سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفی مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ فِي سَفَرٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَمَّا غَابَتِ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم ایک سفر میں تھے اور آپ الشَّمْسُ قَالَ لِبَعْضِ الْقَوْمِ يَا فُلَانُ قُمْ روزہ دار تھے۔جب سورج غروب ہو گیا تو آپ نے فَاجْدَحْ لَنَا فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ لَوْ لوگوں میں سے کسی سے کہا: اے فلاں ! اٹھو اور ہمارے أَمْسَيْتَ قَالَ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا قَالَ يَا لئے ستو گھولو۔اُس نے کہا: یا رسول اللہ ! اگر آپ شام