صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 630 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 630

صحيح البخاری جلد ۳ ۶۳۰ ٣٠ - كتاب الصوم وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ ابْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ اور عبید اللہ بن عمرو نے کہا کہ زید بن ابی انیسہ سے أَبِي أُنَيْسَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مروی ہے۔ انہوں نے حکم سے، انہوں نے سعید بن جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَتِ امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ جبیر سے ، سعید نے حضرت ابن عباس سے روایت کی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میری ماں مرگئی ہے اور اُس کے ذمے نذر کا روزہ وَعَلَيْهَا صَوْمُ نَذْرٍ وَقَالَ أَبُو حَرِيزٍ ہے۔ اور ابوحریز ( عبداللہ بن حسین ) نے کہا: عکرمہ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَتِ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس سے مروی امْرَأَةٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہے۔ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ مَاتَتْ أُمِّي وَعَلَيْهَا صَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ میری ماں مرگئی ہے اور اس کے ذمے پندرہ دن کے يَوْمًا ۔ روزے ہیں۔ ہے۔ تشريح : مَنْ مَّاتَ وَعَلَيْهِ صَوم: اس باب میں بھی قضائے صوم کی ایک الگ صورت پیش الگ صورت پیش کی گئی ہے یعنی میت کی طرف سے واجب الادا روزے رکھے جاسکتے ہیں یا نہیں؟ امام مالک اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک ایسے روزے نہیں رکھے جاسکتے ۔ امام شافعی کا بھی آخری فتوئی اس کے مطابق ہے۔ محدثین کے نزدیک یہ جائز ہے۔ اسی اختلاف کے پیش نظر عنوان باب میں حسن بصری کا حوالہ دیا گیا ہے، جسے دار قطنی نے کتاب الذبح میں موصولاً نقل کیا ہے۔ امام ابن حجر نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ میت کی طرف سے تھیں آدمیوں کے روزے رکھنے میں تسلسل مفقود ہے۔ امام نووی نے بھی کہا ہے کہ محولہ بالا روایت کی تائید کسی اور راوی نے نہیں کی ۔ ( فتح الباری جزء ۴ صفحہ ۲۴۶) امام بخاری نے عنوانِ باب کو جملہ شرطیہ سے قائم کر کے اس کا جواب حذف کر دیا ہے اور زیر باب دو روایتیں درج کی ہیں۔ ایک حضرت عائشہ کی جس میں واجب الادا روزہ رکھنے کا ذکر علی الاطلاق ہے۔ دوسری روایت حضرت ابن عباس کی ہے کہ سائل کی ماں کے واجب الادا روزے ایک ماہ کے تھے۔ یہ روایت مختلف راویوں سے مختلف الفاظ میں مروی ہے۔ کسی میں ہے کہ سائل مرد تھا اور کسی میں ہے کہ عورت تھی۔ ایک میں ماں کا ذکر ہے اور دوسری میں بہن کا ۔ کوئی راوی یہ بیان کرتا ہے کہ مہینے کے روزے تھے۔ دوسرا کہتا ہے کہ پندرہ دن کے روزے تھے۔ کسی راوی کا بیان ہے کہ وہ رمضان کے روزے تھے۔ دوسرے نے کہا کہ یہ نذر کے روزے تھے۔ نیز سعید بن جبیر ہی سے حضرت ابن عباس کی ایک روایت کتاب جزاء الصید میں گزر چکی ہے۔ اس میں روزے کی بجائے حج کے متعلق سوال کئے جانے کا ذکر ہے۔ (دیکھئے روایت نمبر ۱۸۵۲)