صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 627
صحيح البخاری جلد ٣ ۶۲۷ بَاب ٤١ : الْحَائِضُ تَتْرُكُ الصَّوْمَ وَالصَّلَاةَ حائضہ روزہ اور نماز ترک کرے ٣٠ - كتاب الصوم وَقَالَ أَبُو الزِنَادِ إِنَّ السُّنَنَ وَوُجُوْهَ اور ابوزناد نے کہا: طریق اور ظاہری حقوق بہت دفعہ الْحَقِّ لَتَأْتِي كَثِيرًا عَلَى خِلَافِ الرَّأْيِ قیاس کے خلاف ہوتے ہیں۔مسلمانوں کے لئے فَمَا يَجِدُ الْمُسْلِمُونَ بُدًّا مِن اتِّبَاعِهَا اِس سے چارہ نہیں کہ اُن کی پیروی کی جائے۔ان مِنْ ذَلِكَ أَنَّ الْحَائِضَ تَقْضِي القِيَامَ میں سے یہ بات بھی ہے کہ حائضہ ( چھوڑے ہوئے ) وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ۔روزے پورے کرتی ہے۔اور ( چھوڑی ہوئی) نمازیں ادا نہیں کرتی۔١٩٥١: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ :۱۹۵۱ ابن ابی مریم نے ہم سے بیان کیا۔ہم سے حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنِي محمد بن جعفر نے بیان کیا۔انہوں نے کہا: مجھ سے زید زَيْدٌ عَنْ عِيَاضٍ عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ رَضِيَ (بن اسلم) نے بیان کیا۔انہوں نے عیاض ( بن عبد اللہ ) اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے ، انہوں نے حضرت ابوسعید ( خدری ) رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ بات نہیں کہ جب وہ حائضہ ہوتی ہے نہ وہ نماز پڑھتی اور نہ روزہ رکھتی ہے تو یہ اُس کے دین میں کمی ہے۔وَسَلَّمَ أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتْ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ فَذَلِكَ نُقْصَانُ دِيْنِهَا۔اطرافه: ٣٠٤، ٩٥٦، ١٤٦٢، ٢٦٥٨۔تشریح : اَلْحَائِضُ تَتْرُكُ الصَّوْمَ وَالصَّلَاةَ: یہ باب سابقہ موضوع کے تعلق میں ہے۔یعنی حائضہ چھوڑے ہوئے روزے رکھ سکتی ہے جبکہ قضا شدہ نماز کا ادا کرنا اس پر واجب نہیں۔حضرت عائشہ نے ایک عورت کو اُس کے پوچھنے پر جواب دیا کہ آیا تو حروریہ ہے یعنی خارجیہ ہے؟ خارجی لوگ دینی احکام کے بارہ میں اپنی عقل سے فیصلہ کرتے ہیں۔(دیکھئے کتاب الحیض تشریح باب ۲۰ روایت نمبر (۳۲) عقل کے فتوی کی صحت کا دارو مدار مشاہدہ و تجربہ ذہنی تربیت پر ہے۔اگر ناقص ہے تو اُس کا فتوی بھی ناقص ہے اور اگر درست ہے تو درست اور اس طرح وہ بد کتا رہتا ہے۔عقلمند کہلانے والوں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو عورتوں اور مردوں کی آزادی کو نکاح پر ترجیح دیتے ہیں بلکہ عریانی کے حق میں ہیں اور حیوانات کی سی بے محابانہ زندگی بسر کرنا عین عقل کے مطابق سمجھتے ہیں۔اندریں صورت عقل کو