صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 626
صحيح البخاری جلد۳ ۶۲۶ ٣٠ - كتاب الصوم تشریح: مَتَى يُقْضَى قَضَاءُ رَمَضَانَ : رمضان کے روزہ نہ رکھنے کی صورت میں ارشاد ہے کہ دوسرے دنوں میں روزے رکھے جائیں۔اس تعلق میں فقہاء نے سوال اُٹھایا ہے کہ یہ روزے مسلسل اسی طرح رکھے جائیں جس طرح رمضان میں رکھے جائیں یا وقفوں کے ساتھ ؟ اس اختلاف کی طرف اشارہ کرنے کی غرض سے عنوانِ باب میں حضرت ابن عباس کے قول کا حوالہ دیا گیا ہے جو امام مالک نے موصول نقل کیا ہے۔اُن کا اور حضرت ابو ہریرہ کا اس بارہ میں اختلاف تھا۔مؤخر الذکر تفریق کے حق میں ہے۔(موطا امام مالک، کتاب الصیام، باب ما جاء في قضاء رمضان والكفارات) سعید بن مسیب، ابراہیم نخعی ، حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابن عباس کے اقوال سے متعلقہ حوالہ جات ابن ابی شیبہ، عبدالرزاق اور دار قطنی سے منقول ہیں کیے ان کا خلاصہ یہ ہے کہ ترتیب و تسلسل روزوں میں مدنظر رکھی جائے اور نفلی روزوں پر فرض روزے مقدم کئے جائیں۔مؤخر الذکر روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ رمضان کے روزے نہ رکھے گئے ہوں اور دوسرا رمضان آ جائے تو اُس دوسرے رمضان کے روزے پہلے رکھے جائیں اور بعد میں سابقہ رمضان کے اور فدیہ مسکین بھی پورے دنوں کا دیا جائے۔آیت فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ کے بعد ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ یعنی اللہ تعالی تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہیں مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا۔یعنی سہولت سے احکام الہی بجالائے جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔اور جیسا کہ خدا کے فرائض پر عمل کیا جاتا ہے ویسا ہی اُس کی رخصتوں پر عمل کرنا چاہیے۔فرض بھی خدا کی طرف سے ہیں اور رخصت بھی خدا کی طرف سے۔“ الحکم جلد ۵ نمبر ۶ مورخہ ۷ افروری ۱۹۰۱ء صفحه ۱۳) آیت محولہ بالا میں لفظ الیسر کا اختیار کرنا بلا وجہ نہیں۔عہد نامہ قدیم کے جو اُردو تراجم ہمارے سامنے ہیں اُن میں روزہ کی نسبت یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں: جان کو دکھ دینا۔(احبار باب ۱۶ آیت ۲۹ ) اور لفظ روزہ بھی استعمال ہوا ہے۔(۱) سموئیل باب ۷ آیت ۴ عز را باب ۸ آیت (۲) مگر بوقت تشریح جو محاوره جابجا استعمال کیا گیا ہے وہ مذکورہ الفاظ ہی ہیں۔چنانچہ گنتی باب ۲۹ آیت سے میں لکھا: ” پھر اسی ساتویں مہینہ کی دسویں تاریخ کو تمہارا مقدس مجمع ہو۔تم اپنی اپنی جان کو دکھ دینا اور کسی طرح کا کام نہ کرنا۔" یعنی روزہ رکھو اور کام کاج سے فارغ رہو۔اسلام نے اس کے برعکس روزے کا تصور ہی بدل دیا ہے اور کام کاج سے منع نہیں فرمایا مگر آیت يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْر کی تصریح کے باوجود بعض لوگوں نے مسائل میں بڑی دور از کار موشگافیاں کی ہیں۔اللہ بھلا کرے امام بخاری کا کہ انہوں نے محنت کر کے اصل کو غیر اصل سے نمایاں کر دیا ہے۔مصنف ابن ابى شيبة، كتاب الصيام، باب ما قالوا فى قضاء رمضان في العشر ، روایت نمبر ۹۵۱۹ جزء ۲ صفحه ۳۲۵) (مصنف عبد الرزاق، كتاب الصيام، باب المريض في رمضان وقضائه، روایت نمبر ۷۶۲۰ جز ۴ صفحه ۲۳۴) (دار قطنی، کتاب الصيام، باب القبلة للصائم، روایت نمبر۷ ۸ تا ۹۲ جزء ۲ صفحه ۱۹۶ تا ۱۹۸)