صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 628
صحيح البخاري - جلد ۳ ۶۲۸ ٣٠ - كتاب الصوم معیار نہیں بنایا جاسکتا۔تفصیل کے لئے براہین احمدیہ حصہ سوم ( حاشیہ نمبر 1، وسوسہ دہم) روحانی خزائن جلد اول صفحہ ۲۹۲ تا ۳۱۰ دیکھئے۔اس تعلق میں کتاب الحیض باب ۶ روایت نمبر ۳۰۴ بھی دیکھئے جہاں حضرت ابوسعید خدری کی روایت نمبر ۱۹۵۱ کا ذکر ہے۔عنوان باب میں ابوزناد کے قول کا جو حوالہ دیا گیا ہے، اس سے حضرت علی کے اس مشہور قول کی طرف اشارہ ہے: لَوْ كَانَ الذِيْنُ بِالرَّاءِ لَكَانَ أَسْفَلُ الْحُقِّ اَوْلَى بِالْمَسْحِ مِنْ أَعْلَاهُ (ابوداؤد، کتاب الطهارة، باب كيف المسح اگر دین قیاس سے ہوتا تو موزے کا نچلا حصہ اوپر کے حصہ کی نسبت مسیح کے زیادہ قابل ہے۔حائضہ اگر بوقت سحری حیض سے پاک ہو تو غسل کرنے سے قبل روزہ رکھ سکتی ہے مگر نماز نہیں پڑھ سکتی جب تک کہ غسل نہ کر لے۔دراصل جہاں شارع اسلام نے ایک حکم واضح کیا ہے تو وہاں قیاس نہیں ہو سکتا۔یہی منشاء ہے عنوان باب کا۔بَاب ٤٢ : مَنْ مَّاتَ وَعَلَيْهِ صَوْمٌ جو مر جائے اور اُس کے ذمے روزے ہوں وَقَالَ الْحَسَنُ إِنْ صَامَ عَنْهُ ثَلَاثُونَ اور حسن (بصری) نے کہا: اگر میں آدمی اُس کی طر رَجُلًا يَوْمًا وَاحِدًا جَازَ۔سے ایک ہی دن میں روز ہ رکھیں تو یہ جائز ہوگا۔١٩٥٢ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ :۱۹۵۲ محمد بن خالد نے ہم سے بیان کیا۔محمد بن حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ موسیٰ بن امین نے ہمیں بتایا کہ میرے باپ نے حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عمرو بن حارث سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ أَنْ مُحَمَّدَ بْنَ عبيد الله بن ابی جعفر سے مروی ہے کہ محمد بن جعفر نے حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ اُن سے بیان کیا۔انہوں نے عروہ سے، عروہ نے حضرت رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ جَعْفَرٍ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَّاتَ وَعَلَيْهِ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مر جائے اور اس کے ذمہ روزے صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ۔ہوں تو اُس کا وارث اُس کی طرف سے روزے رکھے۔تَابَعَهُ ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرٍو وَرَوَاهُ ابن وہب نے عمرو سے روایت کرتے ہوئے يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ۔(موسی کی طرح) بیان کیا۔اور یحیی بن ایوب نے ابن ابی جعفر سے یہی روایت کی۔