صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 625 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 625

صحيح البخاری جلد ٣ ۶۲۵ باب ٤٠ : مَتَى يُقْضَى قَضَاءُ رَمَضَانَ رمضان کے چھوٹے ہوئے روزے کب رکھے جائیں؟ ٣٠ - كتاب الصوم وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ لَا بَأْسَ أَنْ يُفَرَّقَ اور حضرت ابن عباس نے کہا: اگر مسلسل نہ رکھے جائیں تو لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: فَعِدَّةٌ مِنْ اَيَّامٍ أُخَرَ کوئی مضائقہ نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور دونوں (البقرة: ١٨٦) وَقَالَ سَعِيْدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ سے گنتی پوری کی جائے۔اور سعید بن مسیب نے ( ذوالج فِي صَوْمِ الْعَشْرِ لَا يَصْلُحُ حَتَّى يَبْدَأَ کے ) دس روزوں کی نسبت کہا کہ اُن کا رکھنا مناسب نہیں تا وقتیکہ رمضان کے چھوٹے ہوئے روزے پورے نہ کر لیے جائیں۔اور ابراہیم (شخصی) نے کہا: اگر (روزہ بِرَمَضَانَ وَقَالَ إِبْرَاهِيْمُ إِذَا فَرَّطَ حَتَّى جَاءَ رَمَضَانُ آخَرُ يَصُوْمُهُمَا وَلَمْ يَرَ رکھنے میں ) کوتاہی کرے یہاں تک کہ دوسرا رمضان بھی عَلَيْهِ إِطْعَامًا وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ آجائے تو وہ اُن دونوں کے روزے رکھے اور اُن کی مُرْسَلًا وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ يُطْعِمُ وَلَمْ رائے میں فدیہ طعام اُس پر واجب نہیں۔اور حضرت يَذْكُرِ اللَّهُ تَعَالَى الْإِطْعَامَ إِنَّمَا قَالَ: ابو ہریرہ سے بطور مرسل روایت مذکور ہے۔اور حضرت فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ابن عباس سے بھی کہ وہ کھانا کھلائے اور اللہ تعالیٰ نے ( قضائے رمضان کے بارے میں ) کھانا کھلانے کا ذکر نہیں کیا صرف یہ فرمایا ہے کہ اور دونوں میں گنتی پوری کی جائے۔١٩٥٠: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ :۱۹۵۰ احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ زہیر حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ نے ہمیں بتایا۔تحجي ( بن ابی کثیر ) سے روایت ہے۔قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا انہوں نے ابو سلمہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: تَقُوْلُ كَانَ يَكُونُ عَلَيَّ الصَّوْمُ مِنْ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔وہ کہتی رَمَضَانَ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقْضِيَهُ إِلَّا فِي تھیں: رمضان کے روزے مجھ پر واجب ہوتے تو میں انہیں پورا نہ کرسکتی مگر شعبان میں سیمی نے کہا : نبی شَعْبَانَ قَالَ يَحْيَى الشُّغْلُ مِنَ النَّبِيَ أَوْ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشغولیت کی وجہ سے یا یہ کہ وہ نبی بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشغول رہتیں۔