صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 624
صحيح البخاری جلد۳ ۶۲۴ ٣٠ - كتاب الصوم الطاقة کے معنی میں مشقت و تکلف سے کوئی فعل کرنا اور افعال کا باب سلب وفی کے معنے بھی دیتا ہے۔جیسے افکس کے معنی ہیں اُس کے پاس پیسہ نہ رہا۔اسی سے لفظ افلاس ہے۔اسی طرح اطاق کے معنی ہیں طاقت نہ رہی۔ان معنوں کی رُو سے آیت کا مفہوم یہ ہو گا جو بمشکل روزہ رکھ سکے یا جسے روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو، وہ ایک مسکین کو بطور فدیہ کھانا کھلائے۔جس فریق کی یہ رائے ہے؟ اس میں حضرت علی، حضرت ابو ہریرہ ، حضرت انسؓ اور حضرت سعید بن جبیر جیسے صحابہ کرام اور ائمہ اور فقہاء میں سے امام ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل وغیرہ ہیں۔امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک اگر کوئی عدم قدرت کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا تو اس پر کوئی فدیہ نہیں۔اگر کوئی بیمار ہو اور بیماری کی وجہ سے فوت ہو جائے تو اُس پر نہ روزہ بدل ہے اور نہ فدیہ۔(عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۵۱) امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے جیسا کہ بتایا جا چکا ہے آیات متعلقہ رمضان کو تین حصوں میں تقسیم کر کے اس طرف راہنمائی کی ہے کہ ہر حصہ مستقل حکم ہے۔پہلا حکم علی الاطلاق نفلی یا فرضی روزے سے متعلق ہے۔اس عام حکم کے ساتھ علاوہ روزہ رکھنے کے فدیہ دینے کی تلقین کی گئی ہے یعنی ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے۔اس مفہوم کی روسے يُطِيقُونَهُ کا ترجمہ یہ ہو گا : جو فدیہ کی طاقت رکھتے ہوں جیسا کہ حضرت ولی اللہ شاہ محدث دہلوی نے کہا ہے : يُطِيقُونَہ میں ضمیر مذکر ہے اور فدیہ بظاہر مؤنث ہے لیکن چونکہ مصدر ہے اس لیے عربی قواعد کی رُو سے مصدر کی طرف مذکر ضمیر عود کی جاسکتی ہے، خواہ اُس کی ظاہری ترکیب مونث ہی ہو۔فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا کے یہ معنی ہیں جو بخوشی بڑھ چڑھ کر نیکی کرے۔یعنی روزہ رکھنے کے علاوہ فدیہ بھی دے۔دوسری آیت کا تعلق رمضان کے روزوں سے ہے جو فرض ہیں اور اگر کسی سفر یا بیماری کی وجہ سے وہ نہ رکھے جاسکیں تو اُن کی گفتی حالت صحت یا اقامت میں پوری کرنا ضروری ہے۔امام ابن حجر کے نزدیک اَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ کا ارشاد وجوب اختیاری ہے، چاہے روزہ رکھے یا نہ رکھے۔(فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۲۲۰) نہ رکھنے کی صورت میں فدیہ دینا ہوگا اور اسی آیت میں تصریح ہے کہ روزہ رکھنا افضل ہے اور ان معنوں کی رُو سے یہ آیت ناسخ نہیں ہوسکتی جس سے سابقہ حکم کالعدم ہو۔مزید بحث كتاب التفسير باب اياما معدودات فمن كان منكم مريضا۔۔۔۔میں دیکھئے۔وہاں اس آیت کے تحت بتایا گیا ہے کہ جہاں ایک عام حکم ہو، اس سے متعلق کوئی تخصیص کی جائے تو یہ تخصیص ناسخ نہیں کہلائے گی بلکہ حکم کی وضاحت ہو گی۔اس قسم کی مثالیں قرآن مجید میں بکثرت ہیں۔