صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 49
صحيح البخاری جلد ۳ ۴۹ باب ۱۸: لَا صَدَقَةَ إِلَّا عَنْ ظَهْرِ غِنَّى صدقہ نہیں ہوتا مگر اسی وقت کہ خود محتاج نہ ہو ٢٤ - كتاب الزكاة وَمَنْ تَصَدَّقَ وَهُوَ مُحْتَاجٌ أَوْ أَهْلُهُ اور جس نے صدقہ دیا حالانکہ خود محتاج ہے یا اس کے مُحْتَاجٌ أَوْ عَلَيْهِ دَيْنَ فَالدَّيْنُ أَحَقُّ أَنْ بال بچے محتاج ہیں یا اس پر قرض ہے تو قرضہ ادا کرنا يُقْضَى مِنَ الصَّدَقَةِ وَالْعِتْقِ وَالْهِبَةِ به نسبت صدقہ دینے ، غلام آزاد کرنے اور ہبہ کرنے وَهُوَ رَةٌ عَلَيْهِ لَيْسَ لَهُ أَنْ يُتْلِفَ أَمْوَالَ کے زیادہ ضروری ہے اور یہ صدقہ وغیرہ اس کو واپس النَّاسِ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہوگا۔اسے حق نہیں کہ لوگوں کا مال تلف کرے۔نبی مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ إِتْلَافَهَا ﷺ نے فرمایا: جولوگوں کے مال اس طرح برباد کرنا أَتْلَفَهُ اللَّهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَعْرُوفًا بِالصَّبْرِ چاہتا ہے تو اللہ اُسے برباد کر دے گا۔ہاں اگر وہ فَيُؤْثِرَ عَلَى نَفْسِهِ وَلَوْ كَانَ تکلیف برداشت کرنے میں مشہور ہے اور اپنے نفس پر ( دوسروں کو ) مقدم کرتا ہے۔خواہ اسے احتیاج ہی خَصَاصَةٌ كَفِعْلِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ ہو۔جیسا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا۔جب عَنْهُ حِيْنَ تَصَدَّقَ بِمَالِهِ وَكَذَلِكَ آثَرَ به الْأَنْصَارُ الْمُهَاجِرِيْنَ وَنَهَى النَّبِيُّ انہوں نے اپنا (سارا) مال صدقہ میں دے دیا اور اسی طرح انصار نے مہاجرین کو مقدم کیا اور نبی میں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِضَاعَةِ مال ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے۔اسے حق نہیں کہ الْمَالِ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُضَيِّعَ أَمْوَالَ النَّاسِ لوگوں کا مال صدقہ کے بہانہ سے ضائع کرے اور بعِلَّةِ الصَّدَقَةِ وَقَالَ كَعْبٌ رَضِيَ الله حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے تھے۔عَنْهُ قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي میں نے کہا: یا رسول اللہ! میری تو بہ یہ بھی ہوگی کہ میں أَنْخَلِعَ مِنْ مَّالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ اپنے سارے مال سے دست بردار ہو کر اسے اللہ اور وَإِلَى رَسُوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے صدقہ کر قَالَ أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ دوں۔آپ نے فرمایا: اپنے لئے اپنے مال سے کچھ خَيْرٌ لَّكَ قُلْتُ فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي رکھ لو۔یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔میں نے کہا: پھر