صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 48
صحيح البخاری جلد ۳ ۴۸ ٢٤ - كتاب الزكاة بَاب ١٧ : مَنْ أَمَرَ خَادِمَهُ بِالصَّدَقَةِ وَلَمْ يُنَاوِلْ بِنَفْسِهِ اگر کوئی شخص اپنے خادم کو صدقہ دینے کا حکم کرے اور خود اپنے ہاتھ سے نہ دے وَقَالَ أَبُو مُوْسَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله اور حضرت ابو موسیٰ ( اشعری) نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقِيْنَ۔سے روایت کرتے ہوئے یوں کہا: وہ (نوکر) بھی صدقہ دینے والوں سے ایک ہوگا۔١٤٢٥: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي :۱۴۲۵ عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا، شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ ) کہا : ( جریر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے منصور سے، شَقِيْقٍ عَنْ مَّسْرُوْقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ منصور نے شقیق سے شقیق نے مسروق سے ہمسروق اللهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔وہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ کہتی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طَعَامِ بَيْتِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا عورت جب اپنے گھر کے کھانے سے کچھ خیرات أَجْرُهَا بِمَا أَنْفَقَتْ وَلِزَوْجِهَا أَجْرُهُ بِمَا کرے بشرطیکہ بگاڑنے والی نہ ہو تو اس کو اس کا اجر كَسَبَ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ لَا يَنْقُصُ ملے گا۔اس لئے کہ اس نے خرچ کیا اور اس کے خاوند کو بھی اجر ملے گا۔اس لیے کہ اس نے کمایا اور خزانچی کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا اور ایک کا ثواب بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ شَيْئًا۔دوسرے کے ثواب کو کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔اطرافه: 143٣٧، 1439، 1440، ١٤٤١، ٢٠٦٥۔تشریح: هُوَ اَحَدُ الْمُتَصَدِّقِينَ : عنوان مذکورہ بالا میں صدقہ دینے سے متعلق عدم احساس کی ایک اور صورت پیش کی گئی ہے۔یعنی یہ کہ بالواسطہ صدقہ دے۔مثلاً کارندے کو ہدایت کرے کہ فصل کی پیداوار میں سے مساکین اور محتاجوں کو اس قدر دیا جائے یا کارپرداز سے کہا جائے کہ ماہانہ ملنے پر اس قدر رقم بطور صدقہ دی جائے۔