صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 623
صحيح البخاری جلد۳ ۶۲۳ ٣٠ - كتاب الصوم ١٩٤٩ : حَدَّثَنَا عَيَّاضٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ :۱۹۴۹ عیاش نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالاعلیٰ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ نے ہمیں بتایا۔عبیداللہ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَرَأَ فِدْيَةٌ نے نافع سے، نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما طَعَامُ مَسَاكِيْنَ (البقرة: ۱۸۵) قَالَ سے روایت کی۔انہوں نے یہ آیت یوں پڑھی فِدْيَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ۔انہوں نے کہا: یہ منسوخ ہے۔هِيَ مَنْسُوْخَةٌ۔اطرافة: ٤٥٠٦۔تشریح: وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ : عنوانِ باب میں رمضان سے متعلق آیات کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور تین ہی روایتوں کا جو موصول ہیں حوالہ دیا گیا ہے۔حضرت ابن عمر کی روایت اسی باب کے آخر میں ہے اور حضرت سلمہ بن اکوع کی روایت کتاب التفسیر ( روایت نمبر ۴۵۰۷) میں اور ابن نمیر کی روایت مستخرج ابونعیم میں مروی ہے۔بیہقی اور ابوداؤد نے بھی یہ نقل کی ہے۔(السنن الكبرى للبيهقي، كتاب الصيام، باب ما قيل في بدء الصيام الى ان نسخ بفرض صوم شهر رمضان، روایت نمبر ۷۶۸۳ جز ۴ صفحه ۲۰۰) (عمدۃ القاری جزء اصفحه ۵۱) (فتح الباری جزء ۴۰ صفحه ۲۴۰،۲۳۹) محولہ بالا آیتیں یہ ہیں :- ١) وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنَ۔فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَاَنْ تَصُوْهُ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ (البقره: ۱۸۵) (۲) شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ٣ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ۔(البقره: ۱۸۲) یہ آیات در اصل ایک تسلسل میں ہیں۔ان کو الگ مضمون دیکھانے سے یہ مقصود ہے کہ یہ الگ الگ حکم ہیں جن کا تعلق مختلف حالات سے ہے اور ہر حکم واجب اعمل ہے۔روایات محولہ بالا کا خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ کرام رمضان سے متعلق حکم نازل ہونے سے قبل روز درکھا کرتے تھے اور اُن میں سے جو روزہ نہ رکھ سکتاوہ فدیہ دیتا۔لیکن جب رمضان کا حکم نازل ہوا تو اس سے سابقہ طریق منسوخ ہو گیا۔یہ خلاصہ ہے ان روایات کا۔ان روایتوں کے مقابلہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر کی صرف ایک ہی روایت نقل کی گئی ہے۔جس سے پایا جاتا ہے کہ فدیہ طعام کی آیت جس کی ایک دوسری قرأت میں طعام کے بعد مسکین کی جگہ مساکین ہے یہ قرآت منسوخ ہے اور باعتبار سند مرفوع نہیں بلکہ معنی ہے۔یعنی یہ روایت براہ راست آنحضرت ﷺ سے روای نے نہیں سنی بلکہ شنیدہ ہے۔امام بخاری کے اس لطیف تصرف سے جو عنوانِ باب میں کیا ہے واضح ہوتا ہے کہ اُن کے نزدیک آیت زیر عنوان منسوخ نہیں کہ اس کا عمل باطل ہو گیا ہو بلکہ محکمات میں سے ہے اور واجب العمل ہے۔بلکہ اس آیت سے جو مفہوم سمجھا گیا اور اس کے مطابق جو روش چلی، دوسری آیت کے نزول سے وہ مفہوم منسوخ ہو گیا اور اس کی وضاحت ہو گئی کہ جو لوگ بڑھاپے، بیماری یا کسی اور وجہ سے روزہ نہ رکھ سکیں وہ فدیہ دیں۔